صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب المصافحة:
باب: مصافحہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 6264
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6264]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3694
| كنا مع النبي وهو آخذ بيد عمر بن الخطاب |
صحيح البخاري |
6264
| كنا مع النبي وهو آخذ بيد عمر بن الخطاب |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6264 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6264
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر اس حدیث کو مفصل طور پر بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6632)
اہل لغت نے مصافحہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
مصافحہ، باب مفاعلہ سے ہے۔
اس سے مراد ہتھیلی کا اندرونی حصہ دوسرے کی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے ملانا ہے۔
(النھایة: 43/3)
امام بخاری رحمہ اللہ کی پیش کردہ حدیث سے بھی یہی صورت سامنے آتی ہے کیونکہ جب ہاتھ پکڑا جاتا ہے تو ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے مل جاتی ہے۔
(فتح الباري: 67/11) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو پکڑنا مصافحہ ہی کی ایک صورت ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مصافحہ کے عنوان کے تحت بیان کیا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں ایک، اپنے دوسرے ساتھی کا ہاتھ پکڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ان کی دعاؤں پر توجہ دے اور ان کے ہاتھ الگ الگ ہونے سے پہلے پہلے انھیں معاف کردے۔
“ (مسند أحمد: 142/3)
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر اس حدیث کو مفصل طور پر بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6632)
اہل لغت نے مصافحہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
مصافحہ، باب مفاعلہ سے ہے۔
اس سے مراد ہتھیلی کا اندرونی حصہ دوسرے کی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے ملانا ہے۔
(النھایة: 43/3)
امام بخاری رحمہ اللہ کی پیش کردہ حدیث سے بھی یہی صورت سامنے آتی ہے کیونکہ جب ہاتھ پکڑا جاتا ہے تو ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے مل جاتی ہے۔
(فتح الباري: 67/11) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو پکڑنا مصافحہ ہی کی ایک صورت ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مصافحہ کے عنوان کے تحت بیان کیا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں ایک، اپنے دوسرے ساتھی کا ہاتھ پکڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ان کی دعاؤں پر توجہ دے اور ان کے ہاتھ الگ الگ ہونے سے پہلے پہلے انھیں معاف کردے۔
“ (مسند أحمد: 142/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6264]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3694
3694. حضرت عبد اللہ بن ہشام ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جبکہ آپ نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑرکھا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3694]
حدیث حاشیہ:
پوری حدیث آگے باب الایمان والنذور میں مذکور ہوگی۔
اس سے آپ کی بہت عنایت اور محبت عمر ؓ پر معلوم ہوتی ہے۔
پوری حدیث آگے باب الایمان والنذور میں مذکور ہوگی۔
اس سے آپ کی بہت عنایت اور محبت عمر ؓ پر معلوم ہوتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3694]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3694
3694. حضرت عبد اللہ بن ہشام ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جبکہ آپ نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑرکھا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3694]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عمر ؓ سے بہت محبت اور ان پر آپ کی عنایت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ہاتھ پکڑنا ان سے کمال محبت کی دلیل ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس جگہ پر یہ حدیث بہت اختصار سے بیان کی ہے،پوری حدیث اس طرح ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!ایمان تو اس وقت کامل ہوگا جب تم اپنی جان سے بھی مجھے زیادہ محبوب خیال کرو گے۔
“ حضرت عمر ؓ نے فوراً کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اب ایمان کمال تک پہنچاہے۔
“ (صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6632)
3۔
حضرت عمر ؓ کی شہادت کا واقعہ انتہائی دلدوز ہے۔
جس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤ مجوسی نے زہرآلود خنجر سے تین دار کیے۔
جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے زخمی ہونے کے کئی دنوں بعد انتقال فرمایا۔
سیدنا صہیب ؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ کے ہمراہ سید عائشہ ؓ کے حجرے میں مدفون ہیں۔
آپ کی وفات 26 ذوالحجہ23 بمطابق 6اکتوبر 644ء کو ہوئی۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
۔
۔
1۔
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عمر ؓ سے بہت محبت اور ان پر آپ کی عنایت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ہاتھ پکڑنا ان سے کمال محبت کی دلیل ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس جگہ پر یہ حدیث بہت اختصار سے بیان کی ہے،پوری حدیث اس طرح ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!ایمان تو اس وقت کامل ہوگا جب تم اپنی جان سے بھی مجھے زیادہ محبوب خیال کرو گے۔
“ حضرت عمر ؓ نے فوراً کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اب ایمان کمال تک پہنچاہے۔
“ (صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6632)
3۔
حضرت عمر ؓ کی شہادت کا واقعہ انتہائی دلدوز ہے۔
جس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤ مجوسی نے زہرآلود خنجر سے تین دار کیے۔
جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے زخمی ہونے کے کئی دنوں بعد انتقال فرمایا۔
سیدنا صہیب ؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ کے ہمراہ سید عائشہ ؓ کے حجرے میں مدفون ہیں۔
آپ کی وفات 26 ذوالحجہ23 بمطابق 6اکتوبر 644ء کو ہوئی۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
۔
۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3694]
زهرة بن معبد القرشي ← عبد الله بن هشام التيمي