🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

10. باب ما يتقى من فتنة المال:
باب: مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6437
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِثْلَ وَادٍ مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ، وَلَا يَمْلَأُ عَيْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر انسان کے پاس مال (بھیڑ بکری) کی پوری وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اسے ویسی ہی ایک اور مل جائے اور انسان کی آنکھ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرتا ہے، وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ منبر پر کہتے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6437]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی بھری ہوئی وادی ہو تو وہ خواہش کرے گا کہ اتنا ہی مال اس کے پاس مزید ہو۔ انسان کی آنکھ مٹی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ ارشادات قرآن سے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ ارشادات منبر پر کہتے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6437]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥مخلد بن يزيد الحراني، أبو خالد، أبو خداش، أبو الحسن، أبو يحيى، أبو الجيش
Newمخلد بن يزيد الحراني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← مخلد بن يزيد الحراني
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6436
لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى ثالثا
صحيح البخاري
6437
لو أن لابن آدم مثل واد مالا لأحب أن له إليه مثله
صحيح مسلم
2418
لو أن لابن آدم ملء واد مالا لأحب أن يكون إليه مثله
المعجم الصغير للطبراني
1000
لو أن لابن آدم واديين من مال لتمنى إليهما الثالث ، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ، ويتوب الله على من تاب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6437 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6437
حدیث حاشیہ:
سورۃ تکاثر کے نزول سے پہلے اس عبارت کو قرآن کی طرح تلاوت کیا جاتا رہا۔
پھر سورۃ تکاثر کے نزول کے بعد اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔
مضمون ایک ہی ہے انسان کے حرص اور طمع کا بیان ہے۔
احادیث ذیل میں مزید وضاحت موجود ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6437]

Sahih Bukhari Hadith 6437 in Urdu