صحيح البخاري سے متعلقہ
43. باب كيف يبايع الإمام الناس:
باب: امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟
حدیث نمبر: 7207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا، فَتَشَاوَرُوا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ، وَلَكِنَّكُمْ إِنْ شِئْتُمُ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ، فَجَعَلُوا ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى مَا أَرَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِكَ الرَّهْطَ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ، وَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ، فَقَالَ: أَرَاكَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِكَبِيرِ نَوْمٍ، انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ، وَسَعْدًا، فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي عَلِيًّا، فَدَعَوْتُهُ، فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ عَلَى طَمَعٍ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَى مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا، ثُمّ قَالَ: ادْعُ لِي عُثْمَانَ، فَدَعَوْتُهُ، فَنَاجَاهُ حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا صَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ، وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَرْسل إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ، وَكَانُوا وَافَوْا تِلْكَ الْحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ، إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ"، فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ، وَالْمُسْلِمُونَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں مسور بن مخرمہ نے خبر دی کہ وہ چھ آدمی جن کو عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے نامزد کر گئے تھے (یعنی علی ‘ عثمان ‘ زبیر ‘ طلحہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کہ ان میں سے کسی ایک کو اتفاق سے خلیفہ بنا لیا جائے) یہ سب جمع ہوئے اور مشورہ کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا خلیفہ ہونے کے لیے میں آپ لوگوں سے کوئی مقابلہ نہیں کروں گا۔ البتہ اگر آپ لوگ چاہیں تو آپ لوگوں کے لیے کوئی خلیفہ آپ ہی میں سے میں چن دوں۔ چنانچہ سب نے مل کر اس کا اختیار عبدالرحمٰن بن عوف کو دے دیا۔ جب ان لوگوں نے انتخاب کی ذمہ داری عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تو سب لوگ ان کی طرف جھک گئے۔ جتنے لوگ بھی اس جماعت کے پیچھے چل رہے تھے، ان میں اب میں نے کسی کو بھی ایسا نہ دیکھا جو عبدالرحمٰن کے پیچھے نہ چل رہا ہو۔ سب لوگ ان ہی کی طرف مائل ہو گئے اور ان دنوں میں ان سے مشورہ کرتے رہے جب وہ رات آئی جس کی صبح کو ہم نے عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔ مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ رات گئے میرے یہاں آئے اور دروازہ کھٹکٹھایا یہاں تک کہ میں بیدار ہو گیا۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے آپ سو رہے تھے، اللہ کی قسم میں ان راتوں میں بہت کم سو سکا ہوں۔ جائیے! زبیر اور سعد کو بلائیے۔ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا اور انہوں نے ان سے مشورہ کیا، پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میرے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلا دیجئیے۔ میں نے انہیں بھی بلایا اور انہوں نے ان سے بھی سر گوشی کی۔ یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ پھر علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہو گئے اور ان کو اپنے ہی لیے امید تھی۔ عبدالرحمٰن کے دل میں بھی ان کی طرف سے یہی ڈر تھا، پھر انہوں نے کہا کہ میرے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لائیے۔ میں نے انہیں بھی بلا لایا اور انہوں نے ان سے بھی سرگوشی کی۔ آخر صبح کے مؤذن نے ان کے درمیان جدائی کی۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھ لی اور یہ سب لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے موجود مہاجرین، انصار اور لشکروں کے قائدین کو بلایا۔ ان لوگوں نے اس سال حج عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا پھر کہا امابعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کئے اور میں نے دیکھا کہ وہ عثمان کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔ پھر کہا میں آپ (عثمان رضی اللہ عنہ) سے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت اور آپ کے دو خلفاء کے طریق کے مطابق بیعت کرتا ہوں۔ چنانچہ پہلے ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، پھر سب لوگوں نے اور مہاجرین، انصار اور فوجیوں کے سرداروں اور تمام مسلمانوں نے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7207]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”وہ لوگ جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کرنے کا اختیار دیا تھا وہ جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا۔ ان سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں خلافت کے سلسلے میں آپ لوگوں سے مقابلہ نہیں کروں گا لیکن اگر تم چاہتے ہو تو تم ہی میں سے کسی کو تمہارے لیے خلیفہ مقرر کر دوں۔“ چنانچہ سب نے خلافت کا معاملہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا۔ جب انہوں نے انتخاب کی ذمہ داری ان کے سپرد کر دی تو سب لوگ ان کی طرف مائل ہو گئے یہاں تک کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو باقی حضرات کا پیچھا کرتا ہو یا ان کی ایڑی روندتا ہو۔ تمام لوگوں کا میلان حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف ہو گیا اور وہ انہیں ان راتوں میں مشورہ دیتے رہے کہ جب وہ رات آ گئی جس کی صبح ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ رات گزر جانے کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایا حتیٰ کہ میں بیدار ہو گیا۔ انہوں نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ آپ سو رہے تھے۔ اللہ کی قسم! میں ان راتوں میں بہت کم سو سکا ہوں، آپ ابھی جائیں، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلا لائیں۔“ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا تو انہوں نے ان دونوں سے مشورہ کیا۔ مجھے پھر بلایا اور فرمایا: ”حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ۔“ میں گیا اور انہیں بلا لایا تو آپ ان کے ساتھ مشورہ کرتے رہے حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس حالت میں اٹھ کر گئے کہ وہ خلافت کے خواہشمند تھے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے دل میں ان کے متعلق کچھ کھٹک بھی تھی۔ پھر انہوں نے کہا: ”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ۔“ میں انہیں بلا لایا تو آپ ان سے سرگوشی کرتے رہے حتیٰ کہ مؤذن نے صبح کی اذان دے دی اور دونوں جدا جدا ہو گئے۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز ادا کی اور وہ منبر کے پاس جمع ہو گئے تو آپ نے وہاں موجود انصار، مہاجرین اور لشکروں کے قائدین کو بلایا۔ ان سب حضرات نے امسال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا: ”امّا بعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کیے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو خیال میں نہیں لاتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔“ پھر فرمایا: ”اے عثمان! میں اللہ کے دین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ سے پہلے دو خلفاء کے طریق کے مطابق آپ کی بیعت کرتا ہوں۔“ چنانچہ پہلے ان سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، پھر سب لوگوں یعنی مہاجرین و انصار، فوجوں کے قائدین اور دیگر اہل اسلام نے بیعت کی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7207 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7207
حدیث حاشیہ:
عبد الرحمن رضی اللہ عنہ یہ ڈرتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزاج میں ذرا سختی ہے اور عام لوگ ان سے خوش نہیں ہیں۔
ان سے خلافت سنبھلتی ہے یا نہیں ایسا نہ ہو کوئی فتنہ کھڑا ہو جائے بعضے کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزاج شریف میں ظرافت اور خوش طبعی بہت تھی۔
عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو یہ ڈر ہوا کہ اس مزاج کے ساتھ خلافت کا کام اچھی طرح سے چلے گا یا نہیں۔
چنانچہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی ظرافت اور خوش طبعی کی نسبت کہا ھذا الذي أخرك إلی الرابعة پس بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کر لی امر الٰہی یہی تھا کہ پہلے عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں اور اخیر میں جناب مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خلافت ملے۔
عبد الرحمن رضی اللہ عنہ یہ ڈرتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزاج میں ذرا سختی ہے اور عام لوگ ان سے خوش نہیں ہیں۔
ان سے خلافت سنبھلتی ہے یا نہیں ایسا نہ ہو کوئی فتنہ کھڑا ہو جائے بعضے کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزاج شریف میں ظرافت اور خوش طبعی بہت تھی۔
عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو یہ ڈر ہوا کہ اس مزاج کے ساتھ خلافت کا کام اچھی طرح سے چلے گا یا نہیں۔
چنانچہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی ظرافت اور خوش طبعی کی نسبت کہا ھذا الذي أخرك إلی الرابعة پس بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کر لی امر الٰہی یہی تھا کہ پہلے عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں اور اخیر میں جناب مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خلافت ملے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7207]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7207
حدیث حاشیہ:
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مشتمل شوری تشکیل دی اور فرمایا:
اگر میری موت جلد واقع ہو جائے تو یہ حضرات جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آخری وقت تک راضی رہے خلیفے کا انتخاب کریں۔
مسلمانوں میں سے کوئی شخص بھی ملکی امور کوسمجھنے اور سیاست کرنے میں ان کے ہم پلہ نہ تھا۔
حضرت عبدالرحمٰن کی تحریک پر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دست بردار ہو گئے۔
حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت کے سلسلے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
اب معاملہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں میں سے ایک کے انتخاب کا تھا۔
حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دن رات بھاگ دوڑ اور محنت کی اور آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر کسی دوسرے کو نہیں سمجھتے۔
اس لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طویل سر گوشی کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اگرچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیداور توقع تھی کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے گی لیکن لوگوں کے اتفاق نے انھیں مجبور کیا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب کریں اس موقع پر لشکروں کے سپہ سالار موجود تھے ان میں شام کے امیرحضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حمص کے امیر حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفے کے امیر حضرت مغیرہ بن شعبہ، بصرے کے امیر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مصر کے امیر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ قابل ذکر ہیں اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر سب لوگ متفق تھے۔
۔
۔
رضی اللہ عنه۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مشتمل شوری تشکیل دی اور فرمایا:
اگر میری موت جلد واقع ہو جائے تو یہ حضرات جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آخری وقت تک راضی رہے خلیفے کا انتخاب کریں۔
مسلمانوں میں سے کوئی شخص بھی ملکی امور کوسمجھنے اور سیاست کرنے میں ان کے ہم پلہ نہ تھا۔
حضرت عبدالرحمٰن کی تحریک پر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دست بردار ہو گئے۔
حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت کے سلسلے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
اب معاملہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں میں سے ایک کے انتخاب کا تھا۔
حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دن رات بھاگ دوڑ اور محنت کی اور آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر کسی دوسرے کو نہیں سمجھتے۔
اس لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طویل سر گوشی کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اگرچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیداور توقع تھی کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے گی لیکن لوگوں کے اتفاق نے انھیں مجبور کیا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب کریں اس موقع پر لشکروں کے سپہ سالار موجود تھے ان میں شام کے امیرحضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حمص کے امیر حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفے کے امیر حضرت مغیرہ بن شعبہ، بصرے کے امیر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مصر کے امیر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ قابل ذکر ہیں اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر سب لوگ متفق تھے۔
۔
۔
رضی اللہ عنه۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7207]
Sahih Bukhari Hadith 7207 in Urdu
المسور بن مخرمة القرشي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري