صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب يجعل الكافور فى آخره:
باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ:" تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ"، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , بِنَحْوِهِ.
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے کہلا بھجوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہمیں دیا اور فرمایا کہ اسے اندر جسم پر لپیٹ دو۔ ایوب نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کی، ان سے ام عطیہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1258]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی فوت ہو گئی تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے تین بار یا پانچ بار اور اگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور آخری بار پانی میں کافور ملا دو۔ جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔“ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو مطلع کیا، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ حضرت ایوب راوی نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطية | صحابية | |
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← حفصة بنت سيرين الأنصارية | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطية أم عطية الأنصارية ← أيوب السختياني | صحابية | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أم عطية الأنصارية | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥حامد بن عمر الثقفي، أبو عبد الرحمن حامد بن عمر الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
Sahih Bukhari Hadith 1258 in Urdu
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية