صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں۔
حدیث نمبر: Q1303
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) آنکھ آنسو بہاتی ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1303]
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا قُرَيْشٌ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَال:" دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ"، رَوَاهُ مُوسَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ المُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قریش نے جو حیان کے بیٹے ہیں، نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے۔ یہ ابراہیم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! اور آپ بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ابن عوف! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔ اسی حدیث کو موسیٰ بن اسماعیل نے سلیمان بن مغیرہ سے ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1303]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے جو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا رضاعی باپ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو لے کر بوسہ دیا اور ان کے اوپر اپنا منہ رکھا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ ابو سیف رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے تو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ حالتِ نزع میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار ہوئیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی روتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عوف! یہ تو ایک رحمت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روتے ہوئے فرمایا: ”آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ ہے، لیکن ہم کو زبان سے وہی کہنا ہے جس سے ہمارا مالک راضی ہو۔ اے ابراہیم! ہم تیری جدائی سے یقیناً غمگین ہیں۔“ اس روایت کو موسیٰ نے سلیمان بن مغیرہ سے بھی بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1303
| العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضى ربنا وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون |
سنن أبي داود |
3126
| تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضى ربنا إنا بك يا إبراهيم لمحزونون |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1303 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1303
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس طرح سے آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور دل غمگین ہو اور زبان سے کوئی لفظ اللہ کی ناراضی کا نہ نکلے تو ایسا رونا بے صبری نہیں، بلکہ یہ آنسو رحمت ہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرنے والے کو محبت آمیز لفظوں سے مخاطب کر کے اس کے حق میں کلمہ خیر کہنا درست ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ صاحبزادے ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جو مشیت ایزدی کے تحت حالت شیر خوارگی ہی میں انتقال کر گئے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
حضرت امام بخاری ؒ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس طرح سے آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور دل غمگین ہو اور زبان سے کوئی لفظ اللہ کی ناراضی کا نہ نکلے تو ایسا رونا بے صبری نہیں، بلکہ یہ آنسو رحمت ہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرنے والے کو محبت آمیز لفظوں سے مخاطب کر کے اس کے حق میں کلمہ خیر کہنا درست ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ صاحبزادے ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جو مشیت ایزدی کے تحت حالت شیر خوارگی ہی میں انتقال کر گئے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1303]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1303
حدیث حاشیہ:
(1)
ابو سیف کا نام براء بن اوس انصاری ہے۔
ان کی بیوی ام بردہ خولہ بنت منذر نے حضرت ابراہیم ؓ کو دودھ پلایا۔
ان کی وفات 10 ربیع الاول 10 ہجری کو ہوئی جبکہ ان کی پیدائش ماہ ذوالحجہ 8 ہجری ہے، اس طرح وہ ڈیڑھ سال زندہ رہے۔
ان کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آبدیدہ ہونا شفقت و رحمت کی وجہ سے تھا، جزع و فزع اس کی قطعا بنیاد نہ تھی۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ محض رونے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کے ساتھ واویلا نہ ہو، چنانچہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ مجھے دو آوازوں سے منع کیا گیا:
ایک تو لہو و لعب اور موسیقی کے ساتھ گاتے ہوئے آواز نکالنا اور دوسرے مصیبت کے وقت رونا دھونا، منہ نوچنا اور گریبان پھاڑنا۔
رہا مصیبت کے وقت آبدیدہ ہونا تو یہ اللہ کی رحمت ہے۔
جو شخص ایسے حالات میں کسی پر رحم کا اظہار نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
(فتح الباري: 222/3)
موسیٰ بن اسماعیل تبوذ کی روایت کو امام بیہقی ؒ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں متصل سند سے بیان کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے۔
(فتح الباري: 223/3)
(1)
ابو سیف کا نام براء بن اوس انصاری ہے۔
ان کی بیوی ام بردہ خولہ بنت منذر نے حضرت ابراہیم ؓ کو دودھ پلایا۔
ان کی وفات 10 ربیع الاول 10 ہجری کو ہوئی جبکہ ان کی پیدائش ماہ ذوالحجہ 8 ہجری ہے، اس طرح وہ ڈیڑھ سال زندہ رہے۔
ان کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آبدیدہ ہونا شفقت و رحمت کی وجہ سے تھا، جزع و فزع اس کی قطعا بنیاد نہ تھی۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ محض رونے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کے ساتھ واویلا نہ ہو، چنانچہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ مجھے دو آوازوں سے منع کیا گیا:
ایک تو لہو و لعب اور موسیقی کے ساتھ گاتے ہوئے آواز نکالنا اور دوسرے مصیبت کے وقت رونا دھونا، منہ نوچنا اور گریبان پھاڑنا۔
رہا مصیبت کے وقت آبدیدہ ہونا تو یہ اللہ کی رحمت ہے۔
جو شخص ایسے حالات میں کسی پر رحم کا اظہار نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
(فتح الباري: 222/3)
موسیٰ بن اسماعیل تبوذ کی روایت کو امام بیہقی ؒ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں متصل سند سے بیان کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے۔
(فتح الباري: 223/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1303]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3126
میت پر رونا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا“، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے فرمایا: ”آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے ۱؎، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3126]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا“، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے فرمایا: ”آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے ۱؎، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3126]
فوائد ومسائل:
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب اختیار نہ تھے۔
بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بالکل بے اختیار عاجز اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنۃ ہر مسلمان کےلئے قابل اتباع ہے۔
اس میں غم کا فطری اظہار بھی ہے اور یہ رب کے فیصلے پر تسلیم ورضا کا آئینہ دار بھی ہے۔
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب اختیار نہ تھے۔
بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بالکل بے اختیار عاجز اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنۃ ہر مسلمان کےلئے قابل اتباع ہے۔
اس میں غم کا فطری اظہار بھی ہے اور یہ رب کے فیصلے پر تسلیم ورضا کا آئینہ دار بھی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3126]
Sahih Bukhari Hadith 1303 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري