صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ:
باب: جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1407
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ: جَلَسْتُ. ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، أَنَّ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ:" جَلَسْتُ إِلَى مَلَإٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ خَشِنُ الشَّعَرِ وَالثِّيَابِ وَالْهَيْئَةِ حَتَّى قَامَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيِهِ يَتَزَلْزَلُ، ثُمَّ وَلَّى فَجَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ وَتَبِعْتُهُ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَأَنَا لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَا أُرَى الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَرِهُوا الَّذِي قُلْتَ , قَالَ: إِنَّهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید جریری نے ابوالعلاء یزید سے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں بیٹھا تھا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے سعید جریری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوالعلاء بن شخیر نے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے بیان کیا کہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں سخت بال ‘ موٹے کپڑے اور موٹی جھوٹی حالت میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہو کر سلام کیا اور کہا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس کی چھاتی کی بھٹنی پر رکھ دیا جائے گا جو مونڈھے کی طرف سے پار ہو جائے گا۔ اس طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا۔ یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے اور ایک ستون کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا اور ان کے قریب بیٹھ گیا۔ اب تک مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بات قوم نے پسند نہیں کی۔ انہوں نے کہا یہ سب تو بیوقوف ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1407]
حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص پراگندہ بالوں، موٹے کپڑوں اور سادہ شکل و صورت میں وہاں آیا اور کھڑے ہو کر سلام کیا، پھر کہا: ”مال جمع کرنے والوں کو ایسے گرم پتھر کی خوشخبری سناؤ جسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اسے ان کی چھاتی پر رکھا جائے گا جو مونڈھے کی طرف سے پار ہو جائے گا، پھر اسے کندھے کے پٹھے پر رکھا جائے گا تو وہ چھاتی سے پار ہو جائے گا۔ اسی طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا،“ اس کے بعد وہ شخص وہاں سے چل دیا اور ایک ستون کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ میں اس کے پیچھے گیا اور اس کے قریب بیٹھ گیا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ بزرگ کون ہیں؟ میں نے ان سے عرض کیا: یہ لوگ تو آپ کی بات کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 1407 in Urdu
يزيد بن عبد الله العامري ← الأحنف بن قيس التميمي