صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب لا صدقة إلا عن ظهر غنى:
باب: صدقہ وہی بہتر ہے جس کے بعد بھی آدمی مالدار ہی رہ جائے (بالکل خالی ہاتھ نہ ہو بیٹھے)۔
حدیث نمبر: 1428
وَعَنْ وُهَيْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا.
اور وہیب نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1428]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر وهيب بن خالد الباهلي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1428 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1428
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کی پیش کردہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عنوان میں نفی جنس (ذات)
نہیں، بلکہ نفی کمال ہے، یعنی انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد اس کے پاس اتنا مال ضرور ہو جس سے اس کی اور اس کے اہل و عیال کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
صدقے کے بعد صاحب صدقہ کے لیے مالداری باقی رہے۔
اس مالداری کی دو قسمیں ہیں:
ایک تو دل کی تونگری اور مالداری باقی رہے۔
جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اسی قوت قلب کی وجہ سے اپنے کلی توکل کا اظہار کیا تھا۔
یا پھر مالی غنا باقی رہے جس سے وہ اپنی ضروریات کو پورا کر سکے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ انسان کے لیے صدقہ و خیرات کرنا اسی وقت سود مند ہے جب وہ شرعی حدود کو پیشِ نظر رکھے۔
کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال سے بے نیاز ہو کر اپنی تمام جائیداد فی سبیل اللہ وقف کر دے اور اپنے ورثاء کو مفلس اور تنگ دست چھوڑ جائے۔
ایسا کرنے سے ورثاء کی حق تلفی ہو گی۔
ہاں! اگر کوئی حضرت ابوبکر ؓ جیسا صابر و شاکر مسلمان ہو تو اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایثار پیش کرنا جائز ہو گا، مگر آج کل ایسی مثالیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں۔
(1)
امام بخاری ؒ کی پیش کردہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عنوان میں نفی جنس (ذات)
نہیں، بلکہ نفی کمال ہے، یعنی انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد اس کے پاس اتنا مال ضرور ہو جس سے اس کی اور اس کے اہل و عیال کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
صدقے کے بعد صاحب صدقہ کے لیے مالداری باقی رہے۔
اس مالداری کی دو قسمیں ہیں:
ایک تو دل کی تونگری اور مالداری باقی رہے۔
جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اسی قوت قلب کی وجہ سے اپنے کلی توکل کا اظہار کیا تھا۔
یا پھر مالی غنا باقی رہے جس سے وہ اپنی ضروریات کو پورا کر سکے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ انسان کے لیے صدقہ و خیرات کرنا اسی وقت سود مند ہے جب وہ شرعی حدود کو پیشِ نظر رکھے۔
کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال سے بے نیاز ہو کر اپنی تمام جائیداد فی سبیل اللہ وقف کر دے اور اپنے ورثاء کو مفلس اور تنگ دست چھوڑ جائے۔
ایسا کرنے سے ورثاء کی حق تلفی ہو گی۔
ہاں! اگر کوئی حضرت ابوبکر ؓ جیسا صابر و شاکر مسلمان ہو تو اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایثار پیش کرنا جائز ہو گا، مگر آج کل ایسی مثالیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1428]
عروة بن الزبير الأسدي ← أبو هريرة الدوسي