صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب مثل المتصدق والبخيل:
باب: صدقہ دینے والے کی اور بخیل کی مثال کا بیان۔
حدیث نمبر: 1444
وَقَالَ حَنْظَلَةُ، عَنْ طَاوُسٍ، جُنَّتَانِ وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ ابْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُنَّتَانِ.
اور حنظلہ نے طاؤس سے دو زرہیں نقل کیا ہے اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہر مز سے سنا کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی اس میں دو زرہیں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1444 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1444
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں بخیل اور متصدق کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔
سخی کی زرہ اتنی نیچی ہوجاتی ہے جیسے بہت نیچا کپڑا آدمی جب چلے تو وہ زمین پر گھسٹتا رہتا ہے اور پاؤں کا نشان مٹا دیتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ سخی آدمی کا دل روپیہ خرچ کرنے سے خوش ہوتا ہے اور کشادہ ہوجاتا ہے۔
بخیل کی زرہ پہلے ہی مرحلہ پر اس کے سینہ سے چمٹ کررہ جاتی ہے اور اس کو سخاوت کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔
اس کے ہاتھ زرہ کے اندر مقید ہوکر رہ جاتے ہیں۔
حسن بن مسلم کی روایت کو امام بخاری نے کتاب اللباس میں اور حنظلہ کی روایت کو اسماعیل نے وصل کیا اور لیث بن سعد کی روایت اس سند سے نہیں ملی۔
لیکن ابن حبان نے اس کو دوسری سند سے لیث سے نکالا۔
جس طرح کہ حافظ ابن حجر ؒ نے بیان کیا ہے۔
اس حدیث میں بخیل اور متصدق کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔
سخی کی زرہ اتنی نیچی ہوجاتی ہے جیسے بہت نیچا کپڑا آدمی جب چلے تو وہ زمین پر گھسٹتا رہتا ہے اور پاؤں کا نشان مٹا دیتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ سخی آدمی کا دل روپیہ خرچ کرنے سے خوش ہوتا ہے اور کشادہ ہوجاتا ہے۔
بخیل کی زرہ پہلے ہی مرحلہ پر اس کے سینہ سے چمٹ کررہ جاتی ہے اور اس کو سخاوت کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔
اس کے ہاتھ زرہ کے اندر مقید ہوکر رہ جاتے ہیں۔
حسن بن مسلم کی روایت کو امام بخاری نے کتاب اللباس میں اور حنظلہ کی روایت کو اسماعیل نے وصل کیا اور لیث بن سعد کی روایت اس سند سے نہیں ملی۔
لیکن ابن حبان نے اس کو دوسری سند سے لیث سے نکالا۔
جس طرح کہ حافظ ابن حجر ؒ نے بیان کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1444]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1444
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں بیان کردہ مثال سے مراد صدقہ کرنے والے انسان کی بخیل پر فضیلت کو بیان کرنا ہے۔
(2)
محدثین کرام نے اس کی مختلف انداز سے تشریح کی ہے۔
ابن بطال نے کہا ہے کہ سخی جب سخاوت کرتا ہے تو صدقہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے اور اس کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے، جیسا کہ کرتا پھیل جائے تو پہننے والے کے پورے بدن کو چھپا لیتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے جبکہ بخیل کا نفس خرچ کرنے میں اس کی موافقت نہیں کرتا، لہذا وہ گناہوں کے کفارے سے محروم رہتا ہے۔
بعض علماء نے اس کی وضاحت بایں طور کی ہے کہ سخی جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی اس کی موافقت کرتے ہیں جبکہ بخیل کا سینہ سخاوت کے وقت تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی خرچ کرنے میں اس کا ساتھ نہیں دیتے۔
(3)
اس مثال کی وضاحت اس طرح بھی ہے کہ سخی انسان کو اللہ تعالیٰ پردے میں رکھتا ہے، جیسا کہ کرتا انسان کو چھپا لیتا ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ سخی پر دنیا و آخرت میں پردہ ڈالتا ہے جبکہ بخیل کا کرتا اس کے گلے میں پھنسا رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کا جسم ننگا رہتا ہے جو اس کی ذلت اور رسوائی کا باعث بنتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ بخیل کو دونوں جہانوں میں ذلیل و خوار کرتا ہے۔
(4)
حسن بن مسلم کی متابعت کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5797)
جبکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی دوسری روایت کو صحیح ابن حبان میں بیان کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 387/3)
(1)
حدیث میں بیان کردہ مثال سے مراد صدقہ کرنے والے انسان کی بخیل پر فضیلت کو بیان کرنا ہے۔
(2)
محدثین کرام نے اس کی مختلف انداز سے تشریح کی ہے۔
ابن بطال نے کہا ہے کہ سخی جب سخاوت کرتا ہے تو صدقہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے اور اس کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے، جیسا کہ کرتا پھیل جائے تو پہننے والے کے پورے بدن کو چھپا لیتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے جبکہ بخیل کا نفس خرچ کرنے میں اس کی موافقت نہیں کرتا، لہذا وہ گناہوں کے کفارے سے محروم رہتا ہے۔
بعض علماء نے اس کی وضاحت بایں طور کی ہے کہ سخی جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی اس کی موافقت کرتے ہیں جبکہ بخیل کا سینہ سخاوت کے وقت تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی خرچ کرنے میں اس کا ساتھ نہیں دیتے۔
(3)
اس مثال کی وضاحت اس طرح بھی ہے کہ سخی انسان کو اللہ تعالیٰ پردے میں رکھتا ہے، جیسا کہ کرتا انسان کو چھپا لیتا ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ سخی پر دنیا و آخرت میں پردہ ڈالتا ہے جبکہ بخیل کا کرتا اس کے گلے میں پھنسا رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کا جسم ننگا رہتا ہے جو اس کی ذلت اور رسوائی کا باعث بنتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ بخیل کو دونوں جہانوں میں ذلیل و خوار کرتا ہے۔
(4)
حسن بن مسلم کی متابعت کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5797)
جبکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی دوسری روایت کو صحیح ابن حبان میں بیان کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 387/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1444]
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي