🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. باب النزول بين عرفة وجمع:
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1670
قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ.
کریب نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فضل رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر لبیک کہتے رہے تاآنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے (اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الفضل بن العباس الهاشمي، أبو محمد، أبو العباس، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← الفضل بن العباس الهاشمي
صحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1670 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1670
حدیث حاشیہ:
ہلکا وضو یہ کہ اعضاءوضو کو ایک ایک بار دھویا یا پانی کم ڈالا۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ وضو کرنے میں دوسرے آدمی سے مدد لینا بھی درست ہے نیز اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی ظاہر ہوا کہ حاجی جب رمی جمار کے لیے جمرہ عقبہ پر پہنچے اس وقت سے لبیک پکارنا موقوف کرے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1670]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1670
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میدان عرفات میں مزدلفہ آتے وقت اگر راستے میں کوئی ضرورت پیش آ جائے تو اتر کر اسے پورا کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ اترنا مناسک حج سے نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک گھاٹی میں اپنی بشری ضرورت پوری کرنے کے لیے اترے تھے۔
ایسا کرنا ارکان حج سے نہیں تھا مگر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ افعال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا شدید جذبہ رکھنے کی وجہ سے وہاں ٹھہرتے، قضائے حاجت کرتے، پھر وضو کر لیتے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں یہ تمام امور سرانجام دیے تھے۔
خلفائے بنو امیہ وہاں مغرب کی نماز پڑھتے تھے، حالانکہ ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔
(2)
مسنون یہ ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھا جائے۔
خلفائے بنو امیہ نے اس سنت کو ترک کر دیا تھا۔
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ عرفات سے واپسی کے وقت اگر راستے میں کوئی ضرورت درپیش ہو تو اسے اتر کر پورا کیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 656/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1670]

Sahih Bukhari Hadith 1670 in Urdu