🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. باب من اشترى هديه من الطريق وقلدها:
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی ہدی راستہ میں خریدی اور اسے ہار پہنایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْحَجَّ عَامَ حَجَّةِ الْحَرُورِيَّةِ فِي عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَنَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَمَعْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ، وَأَهْدَى هَدْيًا مُقَلَّدًا اشْتَرَاهُ حَتَّى قَدِمَ فَطَافَ بالبيت وَبِالصَّفَا، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ، فَحَلَقَ وَنَحَرَ وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ , ثُمَّ قَالَ: كَذَلِكَ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں حجۃ الحروریہ کے سال حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں میں باہم قتل و خون ہونے والا ہے اور ہم کو خطرہ اس کا ہے کہ آپ کو (مفسد لوگ حج سے) روک دیں، آپ نے جواب میں یہ آیت سنائی کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اس وقت میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر جب آپ بیداء کے بالائی حصہ تک پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ میں نے حج کو بھی جمع کر لیا ہے، پھر آپ نے ایک ہدی بھی ساتھ لے لی جسے ہار پہنایا گیا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا یہاں تک کہ آپ مکہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا جو چیزیں (احرام کی وجہ سے ان پر) حرام تھیں ان میں سے کسی سے قربانی کے دن تک وہ حلال نہیں ہوئے، پھر سر منڈوایا اور قربانی کی وجہ یہ سمجھتے تھے کہ اپنا پہلا طواف کر کے انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا طواف پورا کر لیا ہے پھر آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1708]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ حکومت میں حروریہ کے حج کے سال حج کرنے کا ارادہ کیا تو ان سے عرض کیا گیا: لوگوں میں جنگ ہونے والی ہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے۔ انہوں نے فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں) بہترین نمونہ ہے۔ میں اس وقت وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کو خود پر واجب کر لیا ہے۔ جب وہ بیداء کے کھلے میدان میں پہنچے تو فرمانے لگے: حج اور عمرے کا حال ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو عمرے کے ساتھ جمع کر لیا ہے۔ پھر انہوں نے قربانی کے جانور کو قلادہ ڈال کر روانہ کیا جو انہوں نے خرید کر لیا تھا۔ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور اس پر کسی چیز کا اضافہ نہ کیا اور کسی چیز کو حلال خیال نہ کیا جو ان پر بحالتِ احرام حرام تھی، حتیٰ کہ ذوالحجہ کے دسویں روز حلق کیا اور قربانی دی۔ انہوں نے خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج اور عمرے کا طواف پورا کر لیا ہے، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← أنس بن عياض الليثي
صدوق حسن الحديث
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1708 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1708
حدیث حاشیہ:
اس روایت میں حجۃ الحروریہ سے مراد امت کے طاغی حجاج کی حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے خلاف فوج کشی ہے۔
یہ73ھ کا واقعہ ہے، حجاج خود خارجی نہیں تھا لیکن خارجیوں کی طرح اس نے بھی دعوائے اسلام کے باوجود حرم اور اسلام دونوں کی حرمت پر تاخت کی تھی۔
اس لیے راوی نے اس کے اس حملہ کو بھی خارجیوں کے حملہ کے ساتھ مشابہت دی اور اس کو بھی ایک طرح سے خارجیوں کا حملہ تصور کیا کہ اس نے امام حق یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے خلاف چڑھائی کی۔
حجۃ الحروریہ کہنے سے ہجو اور خوارج کے سے عمل کی طرف اشارہ مقصود ہے۔
خارجیوں نے 64ھ میں حج کیا تھا، احتمال ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے ان ہر دو سالوں میں حج کیا ہو۔
باب اور حدیث میں مطابقت یوں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے راستہ میں قربانی کا جانور خرید لیا اور عمرہ کے ساتھ حج کو بھی جمع فرما لیا اور فرمایا کہ اگر مجھ کو حج سے روک دیا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مشرکوں نے حدیبیہ کے سال حج سے روک دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ احرام کھول کر جانوروں کو قربان کرا دیا تھا، میں بھی ویسا ہی کرلوں گا، مگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ نے بروقت جملہ ارکان حج کو ادا فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1708]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1708
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ عنوان معمولی سے لفظی اختلاف کے ساتھ پہلے گزر چکا ہے۔
(باب: 105)
۔
اس میں صرف قربانی کو قلادہ ڈالنے کا اضافہ ہے، یعنی ضروری نہیں کہ قربانی کے جانور کو گھر سے قلادہ ڈال کر لایا جائے بلکہ راستے سے خرید کر بھی اس سنت پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
(2)
اس روایت میں حج حروریہ کا ذکر ہے۔
حروراء کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے جہاں خوارج کا پہلا اجتماع ہوا تھا اسی مناسبت سے انہیں حروریہ کہا گیا۔
خوارج کا حج 64 ہجری میں ہوا تھا اور جس سال حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے حجاج بن یوسف نے جنگ کا ارادہ کیا وہ 73 ہجری کا واقعہ ہے۔
ممکن ہے کہ راوی نے حجاج اور اس کے اتباع پر خوارج کا اطلاق کیا ہو کیونکہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی حکومت برحق تھی اور حجاج نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ان کی اطاعت سے خارج ہو گیا تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ متعدد مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا ہو۔
(3)
واضح رہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو کسی قسم کے خدشات سے واسطہ نہ پڑا بلکہ انہوں نے بروقت جملہ ارکان حج ادا فرمائے۔
(فتح الباري: 695/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1708]

Sahih Bukhari Hadith 1708 in Urdu