علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب التجارة أيام الموسم والبيع فى أسواق الجاهلية:
باب: زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خرید و فروخت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1770
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" كَانَ ذُو الْمَجَازِ وَعُكَاظٌ مَتْجَرَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَلِكَ , حَتَّى نَزَلَتْ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ".
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ذوالمجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے (جاہلیت کے ان بازاروں میں) خرید و فروخت کو برا خیال کیا اس پر (سورۃ البقرہ کی) یہ آیت نازل ہوئی ”تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش کرو، یہ حج کے زمانہ کے لیے تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو عمرو عثمان بن عمر العبدي ← ابن جريج المكي | صدوق حسن الحديث |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1770 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1770
حدیث حاشیہ:
جاہلیت کے زمانہ میں چار منڈیاں مشہور تھیں عکاظ، ذو المجاز، مجنہ اور حباشہ، اسلام کے بعد بس حج کے دنوں میں ان منڈیوں میں خرید و فروخت اور تجارت جائز رہی۔
اللہ نے خود قرآن شریف میں اس کا جواز اتارا ہے کہ تجارت کے ذریعہ نفع حاصل کرنے کو اپنا فضل قرار دیا۔
جیسا کہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔
تجارت کرنا اسلاف کا بہترین شغل تھا۔
جس کے ذریعہ وہ اطراف عالم میں پہنچے، مگر افسوس کہ اب مسلمانوں نے اس سے توجہ ہٹالی جس کا نتیجہ افلاس و ذلت کی شکل میں ظاہر ہے۔
جاہلیت کے زمانہ میں چار منڈیاں مشہور تھیں عکاظ، ذو المجاز، مجنہ اور حباشہ، اسلام کے بعد بس حج کے دنوں میں ان منڈیوں میں خرید و فروخت اور تجارت جائز رہی۔
اللہ نے خود قرآن شریف میں اس کا جواز اتارا ہے کہ تجارت کے ذریعہ نفع حاصل کرنے کو اپنا فضل قرار دیا۔
جیسا کہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔
تجارت کرنا اسلاف کا بہترین شغل تھا۔
جس کے ذریعہ وہ اطراف عالم میں پہنچے، مگر افسوس کہ اب مسلمانوں نے اس سے توجہ ہٹالی جس کا نتیجہ افلاس و ذلت کی شکل میں ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1770]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1770
حدیث حاشیہ:
(1)
جاہلیت کے زمانے میں چار منڈیاں بہت مشہور تھیں:
٭ ذوالمجاز:
میدان عرفہ سے ایک میل کے فاصلے پر بازار لگایا جاتا تھا۔
٭ مجنہ:
مکہ کے نشیب میں مر الظہران کے پاس اس کا اہتمام ہوتا تھا۔
٭ عُکاظ:
نخلہ اور طائف کے درمیان فتق مقام پر یہ منڈی لگتی تھی۔
٭ حباشہ:
مکہ سے یمن کے طرف دیار بارق میں یہ بازار لگتا تھا۔
چونکہ ذوالمجاز اور عکاظ حج کے دنوں میں لگائے جاتے تھے، اس لیے حدیث میں ان کا بیان ہوا ہے۔
لوگ ان دنوں خریدوفروخت ناپسند کرتے تھے کیونکہ یہ دن ذکر الٰہی کے لیے مخصوص ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حدیث میں مذکورہ آیت کے ذریعے سے ان دنوں خریدفروخت اور تجارت کو جائز قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 749/3۔
750) (2)
حدیث کے آخر میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ مذکورہ الفاظ سے شاذ قراءت ہے جو ابن عباس ؓ سے منقول ہے، البتہ قراءت متواتر میں (في مواسم الحج)
کے الفاظ نہیں ہیں اور یہی بات راجح ہے۔
(1)
جاہلیت کے زمانے میں چار منڈیاں بہت مشہور تھیں:
٭ ذوالمجاز:
میدان عرفہ سے ایک میل کے فاصلے پر بازار لگایا جاتا تھا۔
٭ مجنہ:
مکہ کے نشیب میں مر الظہران کے پاس اس کا اہتمام ہوتا تھا۔
٭ عُکاظ:
نخلہ اور طائف کے درمیان فتق مقام پر یہ منڈی لگتی تھی۔
٭ حباشہ:
مکہ سے یمن کے طرف دیار بارق میں یہ بازار لگتا تھا۔
چونکہ ذوالمجاز اور عکاظ حج کے دنوں میں لگائے جاتے تھے، اس لیے حدیث میں ان کا بیان ہوا ہے۔
لوگ ان دنوں خریدوفروخت ناپسند کرتے تھے کیونکہ یہ دن ذکر الٰہی کے لیے مخصوص ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حدیث میں مذکورہ آیت کے ذریعے سے ان دنوں خریدفروخت اور تجارت کو جائز قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 749/3۔
750) (2)
حدیث کے آخر میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ مذکورہ الفاظ سے شاذ قراءت ہے جو ابن عباس ؓ سے منقول ہے، البتہ قراءت متواتر میں (في مواسم الحج)
کے الفاظ نہیں ہیں اور یہی بات راجح ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1770]
Sahih Bukhari Hadith 1770 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي