🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب لا ينفر صيد الحرم:
باب: حرم کے شکار ہانکے نہ جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا، إِلَّا لِمُعَرِّفٍ"، وَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَعَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا؟ هُوَ أَنْ يُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ يَنْزِلُ مَكَانَهُ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے مجھ سے پہلے بھی یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اس لیے میرے بعد بھی وہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا۔ میرے لیے صرف ایک دن گھڑی بھر حلال ہوا تھا اس لیے اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے اور اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار نہ بھڑکائے جائیں اور نہ وہاں کی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ ہاں اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔ (تاکہ اصل مالک تک پہنچا دے) عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اذخر کی اجازت دیجئیے کیونکہ یہ ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لیے کام آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اذخر کی اجازت ہے۔ خالد نے روایت کیا کہ عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ شکار کو نہ بھڑکانے سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ (اگر کہیں کوئی جانور سایہ میں بیٹھا ہوا ہے تو) اسے سایہ سے بھگا کر خود وہاں قیام نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1833]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1833
الله حرم مكة لم تحل لأحد قبلي لا تحل لأحد بعدي إنما أحلت لي ساعة من نهار لا يختلى خلاها لا يعضد شجرها لا ينفر صيدها لا تلتقط لقطتها إلا لمعرف
صحيح البخاري
2090
الله حرم مكة ولم تحل لأحد قبلي ولا لأحد بعدي وإنما حلت لي ساعة من نهار لا يختلى خلاها ولا يعضد شجرها ولا ينفر صيدها ولا يلتقط لقطتها إلا لمعرف
سنن النسائى الصغرى
2878
هذا البلد حرام حرمه الله لم يحل فيه القتال لأحد قبلي أحل لي ساعة من نهار هو حرام بحرمة الله
سنن النسائى الصغرى
2895
هذه مكة حرمها الله يوم خلق السموات والأرض لم تحل لأحد قبلي لا لأحد بعدي أحلت لي ساعة من نهار وهي ساعتي هذه حرام بحرام الله إلى يوم القيامة لا يختلى خلاها لا يعضد شجرها لا ينفر صيدها لا تحل لقطتها إلا لمنشد وكان رجلا مجربا
سنن النسائى الصغرى
2877
هذا البلد حرمه الله يوم خلق السموات والأرض هو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لا يعضد شوكه لا ينفر صيده لا يلتقط لقطته إلا من عرفها لا يختلى خلاه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1833 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1833
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ حرم محترم کا مقام یہ ہے کہ جس میں کسی جانور تک کو بھی ستانا، اس کو اس کے آرام کی جگہ سے اٹھا دینا، خود اس جگہ پر قبضہ کر لینا یہ جملہ امور حرم شریف کے آداب کے خلاف ہیں۔
ایام حج میں ہر حاجی کا فرض ہے کہ وہاں دوسرے بھائیوں کے آرام کا ہر وقت خیال رکھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1833]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1833
حدیث حاشیہ:
حدیث کی عنوان سے مطابقت واضح ہے کہ حرم میں کسی شکار کو خوفزدہ کرنا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے جان سے مار ڈالا جائے۔
حضرت عکرمہ نے اس کے معنی یہ کیے ہیں:
اسے تلف کرنے اور ہر قسم کی تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے، یہاں ادنیٰ سے اعلیٰ تک تنبیہ کرنا مقصود ہے۔
حضرت عطاء اور حضرت مجاہد نے اس کے برعکس موقف اختیار کیا ہے۔
وہ فرماتے ہیں:
شکار کو بھگا دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ہاں، قتل تک نوبت نہیں آنی چاہیے۔
بہرحال جمہور کے نزدیک حرم میں شکار کو خوفزدہ کرنا ناجائز ہے، خواہ وہ ہلاک ہو یا نہ ہو۔
اگر اس کے خوفزدہ کرنے سے وہ ہلاک ہو گیا تو اس کا تاوان دینا ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1833]

حافظ محمد طاہر حفظ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح بخاری 1833
حرم کے کبوتروں کو بھگانا/ ہراساں کرنا
حرم کی خصوصیات میں سے ہے کہ یہاں موجود شکار کو ڈرانا، تنگ کرنا اور اس کی جگہ سے بھگانا حرام اور ناجائز ہے۔
اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
«حَرَّمَ اللَّهُ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا.»
اللہ تعالی نے مکہ کو حرم بنایا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد ہوگا اور میرے لیے بھی تھوڑی دیر کے لیے (فتح مکہ کے دن) حلال ہوا تھا۔ لہذا نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے نہ اس کے درخت قلم کئے جائیں۔ نہ یہاں کے جانوروں کو بھگایا جائے۔ [صحيح البخاري: 1349]
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کے راوی امام عکرمہ تابعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ شکار کو نہ بھگانے سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ (اگر کہیں کوئی شکار سایہ میں بیٹھا ہوا ہے تو) اسے سایہ سے بھگا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔ [صحيح البخاري: 1833]
علامہ ابن العطار رحمہ اللہ (724هـ) فرماتے ہیں:
«معنى لا ينفر: لا يُزعج من مكانه.»
نہ بھگانے کا معنی یہ ہے کہ اسے اس کی جگہ سے تنگ کر کے نہ اٹھایا جائے۔ [العدة فى شرح العمدة: 2/ 978]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے دیکھوں، تو میں انھیں ہراساں نہیں کروں گا (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔ [صحيح مسلم: 1873]
کچھ عرصے سے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ چھوٹے بچوں کو حرم کے کبوتروں کے پاس چھوڑ دیتے ہیں، وہ ان کے پیچھے بھاگتے ہیں اور انہیں اڑاتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر بھی لوگ اسے سراہتے ہوئے شیئر کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ علماء اس فعل سے منع کرتے ہیں کیونکہ کبوتر شکار میں شامل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم میں بڑے چھوٹے سبھی لوگ شامل ہیں، حرم کے شکار کو بھگانا، تنگ کرنا، چھیڑنا ممنوع اور حرام ہے۔
اس لیے والدین اور سرپرست چھوٹے بچوں کو منع کریں گے کہ وہ پرندوں کو تنگ نہ کریں۔
بعض سلف اس معاملے میں بڑی سختی کرتے تھے اور اس پر باقاعدہ فدیہ دیتے تھے جیسا کہ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عروہ بن زبیر تابعی رحمہ اللہ کے بارے بیان کرتے ہیں:
«عَبِثَ بَعْضُ بَنِي عُرْوَةَ بِفَرْخٍ مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ فَأَمَرَنِي بِشَاةٍ، فَذُبِحَتْ، ثُمَّ تَصَدَّقَ.»
عروہ رحمہ اللہ کے بچوں میں سے کسی نے مکہ میں کبوتر کے بچے سے چھیڑ خانی کی تو انہوں نے مجھے بکری (بطورِ فدیہ دینے کا) حکم دیا، لہذا بکری ذبح کر کے صدقہ کی گئی۔ [المصنف لابن أبى شيبة - ت الحوت 3/‏326 وسنده صحيح]
اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے کہ کسی بچے نے مکہ کے کبوتر سے کھیلتے ہوئے اسے نقصان پہنچا دیا تو انہوں نے فرمایا: «اذْبَحْ عَنِ ابْنِكَ شَاةً.» اپنے بیٹے کی طرف سے بکری ذبح کرو۔ [المصنف لابن أبى شيبة - ت الحوت 3/‏326 وسنده صحيح]

بچوں کا کبوتروں سے بچوں کے کھیلنے کی موجودہ صورتحال پر معاصر کئی ایک علماء نے بھی حرمت کا فتوی دیا ہے۔
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا حرم کے قریب موجود کبوتروں کو بھگانا یا چھیڑنا بھی ممانعت میں آتا ہے؟ اور اگر بچے انہیں چھیڑ رہے ہوں تو انہیں روکنا چاہیے؟
تو انہوں نے فرمایا: حرم کے شکار کو بھگانا حرام ہے، کبوتر ہوں یا کوئی دوسری چیز اور بچوں کو اس سے منع کرنا چاہیے، بچوں کے سرپرست کو چاہیے کہ انہیں اس سے منع کرے۔
شیخ سعد خثلان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا کہ حرم کے قریب موجود کبوتروں کو اڑانے، بھگانے کا کیا حکم ہے؟ کچھ لوگ اپنے بچوں کو انہیں اڑانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں؟
تو انہوں نے فرمایا: ایسا کرنا بالکل جائز نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کے شکار کو بھڑکانے سے منع کیا ہے اور کبوتر بھی شکار میں سے ہے اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔
البتہ اگر یہ کبوتر وغيرہ راستے اور گزر گاہ پر موجود ہوں اور بندے کے وہاں سے گزرنے پر اڑ جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ اَصل ممانعت قصد و ارادے کے ساتھ انہیں ڈرانا، دھمکانا، اڑانا، بھگانا منع ہے۔
نیز دیکھیے: [لقاء الباب المفتوح، للشيخ ابن العثيمين: 177/‏15]
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2877
مکہ کے احترام و تقدس کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی، اس پر ابن عباس رضی اللہ عن [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2877]
اردو حاشہ:
(1) اس شہر یعنی جو اب شہر بن چکا ہے ورنہ تحریم کے وقت تو شہر نہ تھا۔
(2) حرم قرار دیا یعنی فیصلہ فرما لیا تھا اگرچہ لوگوں کو اس بات کا علم بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی ہوا۔ گویا فیصلہ اللہ تعالیٰ کا تھا اور اعلان حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا، لہٰذا تحریم کی نسبت دونوں کی طرف ہو سکتی ہے۔ پہلی حقیقتاً دوسری مجازاً۔
(3) کانٹے دار درخت یعنی خود رو جنھیں کوئی لگاتا نہیں۔ باقی رہے وہ درخت جو پھل دار ہوں یا جنھیں بیج ڈال کر لگایا گیا ہو، اسی طرح فصلیں وغیرہ، تو انھیں کاٹا جا سکتا ہے اور پھل توڑ کر کھائے جا سکتے ہیں۔
(4) نہ بھگایا جائے یعنی شکار کے لیے اس کا پیچھا نہ کیا جائے اور اس سے بالکل تعرض نہ کیا جائے حتیٰ کہ سائے میں بیٹھے جانور کو سائے سے بھی نہ اٹھایا جائے۔
(5) اعلان کرتا رہے یعنی ہمیشہ اعلان ہی کرے۔ اپنے استعمال میں نہ لائے ورنہ حرم کی خصوصیت نہیں رہے گی۔ احناف کے نزدیک حرم کے لقطہ کی کوئی خصوصیت نہیں۔ صرف ایک سال ہی اعلان کا حکم ہے۔ عام لقطہ کی طرح یہاں خصوصی ذکر صرف تاکید اور تنبیہ کے لیے ہے کہ کوئی سستی نہ کرے۔ پہلی بات زیادہ قوی ہے۔
(6) اذخر مرچ کے پودے کی بالکل ہم شکل ایک قسم کی گھاس ہے جس کی لوگوں کو اشد ضرورت رہتی تھی، جلانے کے لیے، بچھانے کے لیے وغیرہ، اس لیے اس کے کاٹنے کی اجازت دے دی گئی۔
(7) مگر اذخر اس سے معلوم ہوا کہ بعض دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجتہاد کر کے حکم جاری فرما دیتے تھے اگر وہ درست نہ ہوتا تو وحی نازل ہو جاتی وگرنہ وہ حکم ثابت رہتا۔ دیگر حضرات اسے بھی وحی پر محمول کرتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2877]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2878
مکہ مکرمہ میں جنگ و جدال کی حرمت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: یہ شہر (مکہ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام (محترم و مقدس) ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2878]
اردو حاشہ:
مکہ مکرمہ میں قتال کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختصر وقت کے لیے قتال کی اجازت دی گئی تھی، پھر بعد میں قیامت کے لیے اس میں قتال کو حرام قرار دے دیا گیا، لہٰذا اب کسی صورت میں بھی مکہ مکرمہ میں قتال کرنا درست نہیں، ہاں اگر خارجی دشمن حملہ آور ہو تو ارض مقدسہ کا دفاع کرنا ضروری ہے، حدود حرم میں حدود کا نفاذ مختلفہ فیہ مسئلہ ہے جس کی وضاحت آئندہ اوراق میں آئے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2878]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2090
2090. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قراردیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے یہ حلال نہ ہوااور نہ میرے بعد ہی کسی کے لیے حلال ہوگا۔ میرے لیے بھی صرف(دن کی)ایک گھڑی حلال ہوا، لہٰذا اس کی گھاس کو نہ اکھاڑاجائے اور نہ اس کا درخت ہی کاٹا جائے۔ اس کا شکاربھی نہ بھگایا جائے اور نہ وہاں کی گری پڑی کسی چیز ہی کو اٹھایا جائے۔ ہاں وہ اٹھاسکتا ہے جو اس کی تشہیر کرے۔ " حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: ہمارے سناروں اور گھروں کی چھتوں کے لیے اذخر کی اجازت دیجیے۔ آپ نے فرمایا: "ہاں اذخر کی اجازت ہے۔ "(راوی حدیث)حضرت عکرمہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ شکار کے بھگانے سے کیا مراد ہے۔؟وہ یہ ہے کہ اسے سائے سے ہٹا کر خود وہاں پڑاؤ کرلے۔ عبدالوہاب نے خالد سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لیے(اذخر کی اجازت دیجیے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2090]
حدیث حاشیہ:
یعنی بجائے چھتوں کے عبدالوہاب کی روایت میں قبروں کا ذکر ہے۔
عرب لوگ اذخر کو قبروں میں بھی ڈالتے اور چھت بھی اس سے پاٹتے وہ ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے۔
عبدالوہاب کی روایت کو خو دامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الحج میں نکالا ہے۔
روایت میں سناروں کا ذکر ہے، اسی سے اس پیشہ کا درست ہونا ثابت ہوا۔
سنار جو سونا چاندی وغیرہ سے عورتوں کے زیور بنانے کا دھندا کرتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2090]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2090
2090. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قراردیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے یہ حلال نہ ہوااور نہ میرے بعد ہی کسی کے لیے حلال ہوگا۔ میرے لیے بھی صرف(دن کی)ایک گھڑی حلال ہوا، لہٰذا اس کی گھاس کو نہ اکھاڑاجائے اور نہ اس کا درخت ہی کاٹا جائے۔ اس کا شکاربھی نہ بھگایا جائے اور نہ وہاں کی گری پڑی کسی چیز ہی کو اٹھایا جائے۔ ہاں وہ اٹھاسکتا ہے جو اس کی تشہیر کرے۔ " حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: ہمارے سناروں اور گھروں کی چھتوں کے لیے اذخر کی اجازت دیجیے۔ آپ نے فرمایا: "ہاں اذخر کی اجازت ہے۔ "(راوی حدیث)حضرت عکرمہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ شکار کے بھگانے سے کیا مراد ہے۔؟وہ یہ ہے کہ اسے سائے سے ہٹا کر خود وہاں پڑاؤ کرلے۔ عبدالوہاب نے خالد سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لیے(اذخر کی اجازت دیجیے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2090]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث سے پیشۂ زرگری کا جواز ملتا ہےاگرچہ یہ حضرات بہت سے ناجائز کام بھی کرتے ہیں اور پالش کے نام سے زائد رقم بٹورتے ہیں۔
حالانکہ پالش کرنے سےسونے کا وزن کم ہوجاتا ہے اور یہ لوگ پالش کا اضافی وزن سونے میں ڈالتے ہیں، اس کے بعد جب انھیں وہی زیور فروخت کریں تو رتی فی ماشہ کی شرح سے کٹوتی کرکے صافی وزن نکالتے ہیں۔
ایسے کاموں سے گناہ ضرور ہوتا ہے لیکن یہ پیشہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(2)
پہلی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہےکہ پیشہ ور شخص سے فائدہ لینا جائز ہے اگرچہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔
آخر میں پیش کردہ تعلیق کو خود ہی امام بخاری نے کتاب الجنائز،حدیث: 1349 میں متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(3)
واضح رہے کہ ہر وحشی جانور انسان کو دیکھ کر دور ہی سے نفرت کرتا ہے۔
یہ تنقیر انسان کے بس میں نہیں جس پر اسے گناہ گار کہا جاسکے۔
ہاں اگر زیادتی انسان کی طرف سے ہو کہ اس جانور کو سایہ دار درخت سے بھگا کر خود وہاں پڑاؤ کرے تو اس سے مکہ کی حرمت پامال ہوگی۔
غالباً اسی نکتے کی وجہ سے حضرت عکرمہ نے تنقیر کی تفسیر بیان کی ہے۔
(صحیح البخاری،الجنائز،حدیث: 1349)
والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2090]