یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب الحج عمن لا يستطيع الثبوت على الراحلة:
باب: اس کی طرف سے حج بدل جس میں سواری پر بیٹھے رہنے کی طاقت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
(دوسری سند سے امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی اور عرض کی یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ حج جو اس کے بندوں پر ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بھی بیٹھ سکیں تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1854]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور سواری پر ٹھہر نہیں سکتا، اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو ادا ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1854 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1854
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عاجز شخص حج کے لیے اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے اور جو شخص خود حج کرنے پر قادر ہو اس کی طرف سے حج کے لیے نیابت صحیح نہیں۔
اگر اس کا عجز اس قسم کا ہے کہ وہ دور نہیں ہو سکتا تو ایسے حالات میں اسے چاہیے کہ فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے کسی کو اپنا نائب مقرر کر دے۔
(2)
امام بخاری نے حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی حدیث کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے انہیں بیان کیا ہے:
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میرے بوڑھے باپ پر اس حالت میں حج فرض ہوا ہے کہ اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے۔
کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا:
”تم اس کی طرف سے حج کرو۔
“ (فتح الباري: 87/4)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عاجز شخص حج کے لیے اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے اور جو شخص خود حج کرنے پر قادر ہو اس کی طرف سے حج کے لیے نیابت صحیح نہیں۔
اگر اس کا عجز اس قسم کا ہے کہ وہ دور نہیں ہو سکتا تو ایسے حالات میں اسے چاہیے کہ فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے کسی کو اپنا نائب مقرر کر دے۔
(2)
امام بخاری نے حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی حدیث کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے انہیں بیان کیا ہے:
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میرے بوڑھے باپ پر اس حالت میں حج فرض ہوا ہے کہ اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے۔
کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا:
”تم اس کی طرف سے حج کرو۔
“ (فتح الباري: 87/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1854]
Sahih Bukhari Hadith 1854 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي