صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب حج النساء:
باب: عورتوں کا حج کرنا۔
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ؟ فَقَالَ: لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے حبیب بن عمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عائشہ بنت طلحہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں جایا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کے لیے سب سے عمدہ اور سب سے مناسب جہاد حج ہے، وہ حج جو مقبول ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن لیا ہے حج کو میں کبھی چھوڑنے والی نہیں ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1861]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”لیکن تمہارا اچھا اور خوبصورت جہاد حج مقبول ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے، اس کے بعد میں کبھی حج نہیں چھوڑتی۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1861 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1861
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا کہ جہاد کے لیے نکلنا تم پر واجب نہیں جیسے مردوں پر واجب ہے۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتیں مجاہدین کے ساتھ نہ جائیں۔
بلکہ جاسکتی ہیں کیوں کہ ام عطیہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ہم جہاد میں نکلتے تھے اور زخمیوں کی دوا وغیرہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو بشارت دی تھی کہ وہ مجاہدین کے ساتھ شہید ہوگی۔
(وحیدی)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا کہ جہاد کے لیے نکلنا تم پر واجب نہیں جیسے مردوں پر واجب ہے۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتیں مجاہدین کے ساتھ نہ جائیں۔
بلکہ جاسکتی ہیں کیوں کہ ام عطیہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ہم جہاد میں نکلتے تھے اور زخمیوں کی دوا وغیرہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو بشارت دی تھی کہ وہ مجاہدین کے ساتھ شہید ہوگی۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1861]
Sahih Bukhari Hadith 1861 in Urdu
عائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق