علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب حرم المدينة:
باب: مدینہ کے حرم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ، حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ، وَقَالَ:" ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: عَدْلٌ فِدَاءٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ہے اور کوئی چیز (شرعی احکام سے متعلق) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے اس لیے اگر کسی مسلمان کی (دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل، اور جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے، اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1870]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥يزيد بن شريك التيمي، أبو إبراهيم يزيد بن شريك التيمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن يزيد التيمي، أبو أسماء إبراهيم بن يزيد التيمي ← يزيد بن شريك التيمي | ثقة يرسل | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم بن يزيد التيمي | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1870
| ذمة المسلمين واحدة من أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل من تولى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1870 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1870
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے بھی امام بخاری ؒ نے مدینہ طیبہ کے حرم ہونے پر استدلال کیا ہے۔
اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کا شکار بھی نہ پکڑا جائے لیکن ائمۂ ثلاثہ اس کے ارتکاب پر کوئی فدیہ واجب نہیں کرتے جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ مدینہ طیبہ کو حرم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ مدینہ کے درخت کاٹنے اور اس کا شکار کرنے کو جائز کہتے ہیں۔
ان کے ہاں احادیث مذکورہ کا مطلب مدینہ کی زینت کو باقی رکھنا ہے تاکہ لوگ مدینہ طیبہ سے مانوس ہوں اور اس سے وحشت محسوس نہ کریں، لیکن احادیث سے اس موقف کی تردید ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:
”حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، میں مدینہ طیبہ قابل احترام ٹھہراتا ہوں“ (2)
اس حدیث سے ان روافض و شیعہ حضرات کی بھی تردید ہوتی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصیت نامہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز کے طور پر حضرت علی ؓ کو کچھ باتیں تلقین کی تھیں اور وہ اسرار دین پر مشتمل ہے۔
(3)
امام بخاری ؒ نے عدل کے معنی فدیہ بتائے ہیں۔
یہ معنی بھی قابل اعتبار ہیں
(1)
اس حدیث سے بھی امام بخاری ؒ نے مدینہ طیبہ کے حرم ہونے پر استدلال کیا ہے۔
اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کا شکار بھی نہ پکڑا جائے لیکن ائمۂ ثلاثہ اس کے ارتکاب پر کوئی فدیہ واجب نہیں کرتے جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ مدینہ طیبہ کو حرم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ مدینہ کے درخت کاٹنے اور اس کا شکار کرنے کو جائز کہتے ہیں۔
ان کے ہاں احادیث مذکورہ کا مطلب مدینہ کی زینت کو باقی رکھنا ہے تاکہ لوگ مدینہ طیبہ سے مانوس ہوں اور اس سے وحشت محسوس نہ کریں، لیکن احادیث سے اس موقف کی تردید ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:
”حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، میں مدینہ طیبہ قابل احترام ٹھہراتا ہوں“ (2)
اس حدیث سے ان روافض و شیعہ حضرات کی بھی تردید ہوتی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصیت نامہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز کے طور پر حضرت علی ؓ کو کچھ باتیں تلقین کی تھیں اور وہ اسرار دین پر مشتمل ہے۔
(3)
امام بخاری ؒ نے عدل کے معنی فدیہ بتائے ہیں۔
یہ معنی بھی قابل اعتبار ہیں
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1870]
Sahih Bukhari Hadith 1870 in Urdu
يزيد بن شريك التيمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي