🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الإيمان يأرز إلى المدينة:
باب: اس بارے میں کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1876
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1876]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ کی جانب اس طرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥حفص بن عاصم العدوي
Newحفص بن عاصم العدوي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو محمد، أبو الحارث
Newخبيب بن عبد الرحمن الأنصاري ← حفص بن عاصم العدوي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← أنس بن عياض الليثي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1876
الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها
صحيح مسلم
374
الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها
سنن ابن ماجه
3111
الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها
مشكوة المصابيح
160
إن الإيمان ليارز إلى المدينة كما تارز الحيية إلى جحرها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1876 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1876
حدیث حاشیہ:
اسی طرح اخیر زمانہ میں سچے مسلمان ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں چلے جائیں گے۔
حافظ نے کہا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاءراشدین کے زمانوں میں تھا، قیامت کے قریب پھر ایسا ہی دور پلٹ کر آئے گا وما ذلك علی اللہ بعزیز۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1876]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 1876
لغوی توضیح:
«لَيَارِزُ» سمٹ آنا، سکڑ آنا۔
«الْحَيَّة» سانپ۔
«جُحْر» بِل۔

فہم الحدیث:
اس حدیث میں مدینہ منورہ کی فضیلت کا بیان ہے۔ اس لیے مدینہ میں رہائش اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ فرمان نبوی کے مطابق مدینہ میں فوت ہونے والے کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سفارش فرمائیں گے۔ [صحيح: هداية الرواة 2681، ترمذي 3917]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 89]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1876
حدیث حاشیہ:
(1)
تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایمان مدینہ طیبہ سے دوسرے شہروں کی طرف پھیلے گا تو مدینہ طیبہ میں ایمان بالکل نہیں رہے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا سرچشمہ مدینہ طیبہ سے پھوٹا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے قرون ثلاثہ تک اسلام بڑا غالب رہا۔
پھر اس کے بعد حالات بدل گئے، بدعات کا دور دورہ ہوا اور باطل فرقے اپنے زہر آلود عقائد باطلہ سے مسلمانوں کے دین و ایمان کو لوٹنے لگے۔
بالآخر قریب قیامت کے وقت ایمان کو پناہ مدینہ طیبہ ہی میں ملے گی۔
لوگ اپنا ایمان بچانے کے لیے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر کے آئیں گے جیسا کہ سانپ اپنے بل سے نکل کر اِدھر اُدھر پھرتا ہے، پھر جب وہ کسی سے خوف محسوس کرتا ہے تو اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔
(2)
قرب قیامت کے وقت ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ مدینہ طیبہ کے علاوہ کہیں بھی کوئی مومن نہیں رہے گا۔
حدیث میں ہے کہ مدینہ طیبہ تمام شہروں کے آخر میں تباہی سے دوچار ہو گا، یہ اس لیے کہ اس میں آخر وقت تک ایمان باقی رہے گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1876]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 160
ایمان مدینہ میں سمٹ جائے گا
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تأرز الحيية إِلَى جحرها» . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناًً ایمان سمٹ کر مدینہ کی طرف چلا آئے گا جس طرح سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ و بل میں آ جاتا ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور عنقریب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث «زروني ما تركتكم» کا ذکر کتاب المناسک میں آئے گا۔ اور سیدنا معاویہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی دو حدیثیں «لا يزال من امتي» اور «لا يزال باب ثواب هذه الامته» میں مذکور ہوں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 160]
تخریج الحدیث:
[صحيح بخاري 1876] ،
[صحيح مسلم 374]

فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے ایک دور ایسا بھی آئے گا جب ہر طرف گمراہی اور کفر کا دور دورہ ہو گا، لیکن مدینہ طیبہ اس فتنے سے محفوظ رہے گا۔
➋ قیامت تک ہر دور میں امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا۔
➌ تشبیہ کے لئے مشبہ بہ اور مشبہ کا ہر صفت میں ایک ہونا ضروری نہیں ہے۔
➍ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
➎ بعض علماء کے نزدیک مدینہ و مکہ دونوں شہر اور حجاز کا علاقہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ «والله اعلم»
➏ مومن کو ہر وقت اپنا ایمان بچانے کی فکر میں رہنا چاہئیے۔
➐ سانپ سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سانپ اگر اپنے سوراخ (بِل) میں داخل ہو جائے تو اس کے دشمن ناکام رہتے ہیں۔ اسی طرح دجال و کفار مدینہ طیبہ پر قبضے میں ناکام رہیں گے اور اللہ تعالیٰ اہلِ مدینہ کو اپنی حفاظت میں رکھے گا۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 160]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3111
مدینہ کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سما جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3111]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مدینے سے محبت کی وجہ سے مومن ہر دور میں اس کی زیارت کا شوق رکھتے ہیں۔

(2)
قیامت کے قریب جب ساری دنیا میں کفر پھیل جائے گاتو مدینہ میں اس وقت بھی مومن موجود رہیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3111]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 374
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں لوٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے بِل کی طرف لوٹ آتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:374]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اسلام کا آغاز مکہ سے ہوا،
مدینہ سے پھیلا،
اس لیےاس کی پناہ گاہ مدینہ ہے،
اور آخری دور میں اسلام اپنی صحیح حالت میں صرف مدینہ میں ہوگا یا مکہ میں ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 374]

Sahih Bukhari Hadith 1876 in Urdu