🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. باب بيع المدبر:
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ مدبر غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2231]
حضرت جابر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونے والے غلام کو فروخت کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2231 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2231
حدیث حاشیہ:
(1)
احادیث میں صراحت ہے کہ غلام کانام یعقوب،اس کے آقا کا نام ابو مذکور انصاری،جس نے خریدا وہ نعیم بن عبداللہ اور انھوں نے آٹھ سودرہم کے عوض خریدا تھا۔
اس کا مالک چونکہ مقروض تھا اور اس کی غلام کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہ تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کردیا۔
(2)
اس سے قرض کی نزاکت کا پتہ چلتا ہے کہ اس کی خاطر مدبر غلام کو نیلام کیا جاسکتا ہے، حالانکہ اس غلام نے اپنے آقا کی وفات کے بعد آزاد ہوجانا تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2231]

Sahih Bukhari Hadith 2231 in Urdu