🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب من استأجر أجيرا فترك أجره، فعمل فيه المستأجر فزاد، أو من عمل فى مال غيره فاستفضل:
باب: اگر کسی نے کوئی مزدور کیا اور وہ مزدور اپنی اجرت لیے بغیر چلا گیا پھر (مزدور کی اس چھوڑی ہوئی رقم یا جنس سے) مزدوری لینے والے نے کوئی تجارتی کام کیا۔ اس طرح وہ اصل مال بڑھ گیا اور وہ شخص جس نے کسی دوسرے کے مال سے کوئی کام کیا اور اس میں نفع ہوا (ان سب کے بارے میں کیا حکم ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَتَّى أَوَوْا الْمَبِيتَ إِلَى غَارٍ فَدَخَلُوهُ، فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْغَارَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ لَا يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، فَنَأَى بِي فِي طَلَبِ شَيْءٍ يَوْمًا، فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلًا أَوْ مَالًا، فَلَبِثْتُ وَالْقَدَحُ عَلَى يَدَيَّ أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا حَتَّى بَرَقَ الْفَجْرُ، فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ، فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ، فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا، فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، عَلَى أَنْ تُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا، فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا، قَالَتْ: لَا أُحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الْوُقُوعِ عَلَيْهَا فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَكَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَجَاءَنِي بَعْدَ حِينٍ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَدِّ إِلَيَّ أَجْرِي، فَقُلْتُ لَهُ: كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، وَالْغَنَمِ، وَالرَّقِيقِ، فَقَالَ: يَاعَبْدَ اللَّهِ، لَا تَسْتَهْزِئُ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ فَأَخَذَهُ كُلَّهُ، فَاسْتَاقَهُ فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهُ شَيْئًا، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ، فَخَرَجُوا يَمْشُونَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی امت کے تین آدمی کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ رات ہونے پر رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی، اور اس میں اندر داخل ہو گئے۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا۔ سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں، سوا اس کے کہ تم سب، اپنے سب سے زیادہ اچھے عمل کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک شخص نے اپنی دعا شروع کی کہ اے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں روزانہ ان سے پہلے گھر میں کسی کو بھی دودھ نہیں پلاتا تھا، نہ اپنے بال بچوں کو، اور نہ اپنے غلام وغیرہ کو۔ ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں رات ہو گئی اور جب میں گھر واپس ہوا تو وہ (میرے ماں باپ) سو چکے تھے۔ پھر میں نے ان کے لیے شام کا دودھ نکالا۔ جب ان کے پاس لایا تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ مجھے یہ بات ہرگز اچھی معلوم نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے اپنے بال بچوں یا اپنے کسی غلام کو دودھ پلاؤں، اس لیے میں ان کے سرہانے کھڑا رہا۔ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اب میرے ماں باپ جاگے اور انہوں نے اپنا شام کا دودھ اس وقت پیا، اے اللہ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے۔ اس دعا کے نتیجہ میں وہ غار تھوڑا سا کھل گیا۔ مگر نکلنا اب بھی ممکن نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دوسرے نے دعا کی، اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی۔ جو سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا، لیکن اس نے نہ مانا۔ اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا۔ تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ خلوت میں مجھے سے برا کام کرائے۔ چنانچہ وہ راضی ہو گئی۔ اب میں اس پر قابو پا چکا تھا۔ لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو۔ یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آ گیا اور وہاں سے چلا آیا۔ حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی، لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تیسرے شخص نے دعا کی۔ اے اللہ! میں نے چند مزدور کئے تھے۔ پھر سب کو ان کی مزدوری پوری دے دی، مگر ایک مزدور ایسا نکلا کہ وہ اپنی مزدوری ہی چھوڑ گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع حاصل ہو گیا پھر کچھ دنوں کے بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھے میری مزدوری دیدے، میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے۔ اونٹ، گائے، بکری اور غلام یہ سب تمہاری مزدوری ہی ہے۔ وہ کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا میں مذاق نہیں کرتا، چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ ایک چیز بھی اس میں سے باقی نہیں چھوڑی۔ تو اے اللہ! اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ سب باہر نکل کر چلے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2272]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم سے پہلے زمانے میں تین آدمی ایک ساتھ روانہ ہوئے تا آنکہ وہ رات گزارنے کے لیے ایک پہاڑ کی غار میں جا داخل ہوئے۔ جب سب غار میں چلے گئے تو ایک پتھر پہاڑ سے لڑھک کر آیا جس نے غار کا منہ بند کر دیا۔ اب ان تینوں نے کہا: ہمیں کوئی چیز اس پتھر سے نجات نہیں دلا سکتی مگر ایک ذریعہ ہے کہ اپنی اپنی نیکیوں کو بیان کر کے اللہ سے دعا کریں، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو شام کا دودھ نہیں پلاتا تھا نہ اپنے بال بچوں کو اور نہ ہی لونڈی غلاموں ہی کو۔ ایک دن کسی چیز کی تلاش میں مجھے اتنی دیر ہو گئی کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ سو گئے تھے، چنانچہ میں نے شام کا دودھ دوہا اور اس کا برتن اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور مجھے یہ سخت ناگوار تھا کہ ان سے پہلے میں اپنے اہل و عیال یا لونڈی غلاموں کو دودھ پلاؤں، لہٰذا میں پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو دونوں نے بیدار ہو کر اپنا شام کا دودھ پیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہم کو اس مصیبت سے نجات دے دے، چنانچہ وہ پتھر تھوڑا سا اپنی جگہ سے ہٹ گیا لیکن وہ اس غار سے نکل نہ سکتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میرے چچا کی ایک بیٹی تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، میں نے اس سے برے کام کی خواہش کی لیکن وہ راضی نہ ہوئی، ہوا یوں کہ ایک سال قحط پڑا تو وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ مجھے برا کام کرنے دے۔ وہ راضی ہو گئی لیکن جب مجھے اس پر قدرت حاصل ہوئی تو کہنے لگی: میں تجھے ناحق مہر توڑنے کی اجازت نہیں دیتی۔ (یہ سن کر) میں نے بھی اس بات کو گناہ خیال کیا اور اس سے الگ ہو گیا حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور میں نے جو سونا اسے دیا تھا وہ بھی چھوڑ دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم مبتلا ہیں اس کو دور کر دے، چنانچہ وہ پتھر تھوڑا سا اپنی جگہ سے اور سرک گیا مگر وہ اس غار سے نہیں نکل سکتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر لگایا تھا اور انہیں ان کی مزدوری بھی دے دی تھی، لیکن ایک شخص اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا۔ میں نے اس کی رقم کو کام میں لگایا جس سے بہت سا مال حاصل ہوا، چنانچہ ایک مدت کے بعد وہ مزدور آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! مجھے میری مزدوری دے۔ میں نے اسے کہا: یہاں جتنے اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب کے سب تیری مزدوری کے ہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: (ایسی کوئی بات نہیں) میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، تب اس نے تمام چیزیں اپنے قبضے میں لے لیں اور انہیں ہانک کر لے گیا اور اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام محض تیری خوشنودی کے لیے کیا تھا تو یہ مصیبت ہم سے ٹال دے جس میں ہم مبتلا ہیں، چنانچہ وہ پتھر بالکل ہٹ گیا اور وہ اس غار سے باہر نکل کر چلے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5974
ثلاثة نفر يتماشون أخذهم المطر فمالوا إلى غار في الجبل فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل فأطبقت عليهم فقال بعضهم لبعض انظروا أعمالا عملتموها لله صالحة فادعوا الله بها لعله يفرجها فقال أحدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران ولي صبية صغار كنت أرعى عليه
صحيح البخاري
2333
ثلاثة نفر يمشون أخذهم المطر فأووا إلى غار في جبل فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل فانطبقت عليهم فقال بعضهم لبعض انظروا أعمالا عملتموها صالحة لله فادعوا الله بها لعله يفرجها عنكم قال أحدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران ولي صبية صغار كنت أرعى عليه
صحيح البخاري
2215
ثلاثة نفر يمشون فأصابهم المطر فدخلوا في غار في جبل فانحطت عليهم صخرة قال فقال بعضهم لبعض ادعوا الله بأفضل عمل عملتموه فقال أحدهم اللهم إني كان لي أبوان شيخان كبيران فكنت أخرج فأرعى ثم أجيء فأحلب فأجيء بالحلاب فآتي به أبوي فيشربان ثم أسقي الصبية وأهلي
صحيح البخاري
2272
ثلاثة رهط ممن كان قبلكم حتى أووا المبيت إلى غار فدخلوه فانحدرت صخرة من الجبل فسدت عليهم الغار فقالوا إنه لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا أن تدعوا الله بصالح أعمالكم فقال رجل منهم اللهم كان لي أبوان شيخان كبيران وكنت لا أغبق قبلهما أهلا ولا مالا فنأى بي في
صحيح مسلم
6949
ثلاثة نفر يتمشون أخذهم المطر فأووا إلى غار في جبل فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل فانطبقت عليهم فقال بعضهم لبعض انظروا أعمالا عملتموها صالحة لله فادعوا الله بها لعل الله يفرجها عنكم فقال أحدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران وامرأتي ولي صبي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2272 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2272
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں اور باب کا مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے جو حدیث مذکور میں تیسرے شخص سے متعلق ہے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اعمال صالحہ کو بطور وسیلہ پیش کرنا جائز ہے۔
آیت کریمہ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ کا یہی مطلب ہے کہ اس اللہ کی طرف نیک اعمال کا وسیلہ ڈھونڈو۔
جو لوگ بزرگوں، ولیوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں یا محض ذات نبوی کو بعد وفات بطور وسیلہ پیش کرتے ہیں وہ ایسا عمل کرتے ہیں جس پر کتاب و سنت سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔
اگر بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو بطور وسیلہ پیش کرنا جائز ہوتا تو حضرت عمر ؓ ایک استسقاءکی دعا کے موقع پر ایسا نہ کہتے کہ یا اللہ! ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دعا کرانے کے لیے آپ کو پیش کیا کرتے تھے۔
اب اللہ کے نبی دنیا سے چلے گئے اور آپ کے محترم چچا حضرت عباس ؓ کی ذات گرامی موجود ہے لہٰذا دعا کرانے کے لیے ہم ان کو پیش کرتے ہیں تو ان کی دعائیں ہمارے حق میں قبول فرما کر ہم کو باران رحمت سے شاداب فرمادے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2272]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2272
حدیث حاشیہ:
(1)
استدلال کی بنیاد حدیث مذکور میں تیسرے شخص کا کردار ہے کہ اس نے ایک مزدور کے مال کو از خود کام میں لگایا جس سے خوب نفع حاصل ہوا، پھر اسی کو دے دیا۔
یہ اس صورت میں ہے جب سابقہ امتوں کے احکام ہمارے لیے مشروع ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہ کیا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بطور مدح وثنا ذکر فرمایا اور ان کے کردار پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا۔
اگر یہ کام ہماری شریعت میں جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت فرمادیتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ اگرچہ بطور وعظ ونصیحت بیان فرمایا، تاہم امام بخاری ؒ نے اس سے ایک فقہی مسئلے کا استنباط کیا ہے۔
(2)
شارح بخاری ابن بطال لکھتے ہیں کہ اگر کسی نے غصب کردہ یا امانت والے مال کو تجارت میں لگایا تو اس نفع اس کے لیے جائز ہے جبکہ اصل مال اس کے مالک کو واپس کردیاجائے۔
(فتح الباري: 517/4)
ہمارے رجحان کے مطابق کسی کی امانت میں تصرف کرنے کا کسی کو حق نہیں۔
اگر کوئی تصرف کرکے نفع کماتا ہے تو وہ اصل مالک کا ہے زیادہ سے زیادہ وہ اپنی محنت کا معاوضہمعروف طریقے کے مطابق لے سکتا ہے۔
اگر اس مال میں کمی ہوجائے یا وہ ضائع ہوجائے تو کام میں لانے والا اس کا ضامن ہوگا کیونکہ اس نے مال غیر میں بلا اجازت تصرف کیا ہے جو اس کے لیے شرعاً جائز نہ تھا۔
(3)
اصلاحی صاحب اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
میرے نزدیک یہود میں مروج یہ ایک حکایت ہے ضروری نہیں کہ یہ حقیقی واقعہ ہو۔
اہل کتاب میں یہود کا مزاج اسی طرح کا ہے۔
(تدبرحدیث: 566/1)
گویا مولانا اصلاحی اور ان کے ہمنواؤں کے نزدیک یہ کوئی سچی حکایت نہیں بلکہ ایک فرضی داستان ہے۔
نعوذ بالله من هذه الهفوات الإصلاحي و أنصاره
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2272]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6949
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:" جبکہ تین آدمی چلے تھے، انھیں بارش نے آلیا تو انھوں نے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لی ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آپڑی اور وہ ان پر بند ہوگئی، چنانچہ انھو ں نے ایک دوسرے سے کہا، اپنے ان نیک اچھے اعمال پر نظر ڈالو، جو خاص طور پر تم نے اللہ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔ سو ان میں سے ایک نے کہا، اے اللہ! میرے ماں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6949]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ،
اپنی امت کو سبق آموزی اور عبرت پذیری کے لیے سنایا،
اس میں چند باتیں خصوصی طور پر توجہ طلب ہیں۔
(1)
سب سے اہم اور پہلی بات تو یہ ہے کہ ان تینوں افراد نے اپنے عمل صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیے تھے اور ان اعمال کی اس خصوصیت کی بنا پر،
اللہ کے حضور پیش کیا تھا،
جس سے اخلاص کی برکت و تاثیر اور قوت کا اظہار ہوتاہے،
نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا کرنا پسندیدہ ہے اور دعا کی قبولیت کا سبب ہے۔
(2)
ان تینوں عملوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ عمل اللہ کے حکم و مرضی کے مقابلہ میں اپنے نفس کو دبانے اور اس کی چاہت کو قربان کرنے کی اعلیٰ مثال ہیں،
دیکھئے،
پہلے شخص کا مجاہدہ نفس کس قدرشدید ہے کہ وہ دن بھر جانوروں کو جنگل میں چراتا ہے،
شام کو دیر سے تھکا ہارا ہوا گھر پہنچتا ہے تو اس کا دل آرام کے لیے کس قدر بے قرار اور بے چین ہوگا،
لیکن چونکہ ماں باپ دودھ پیے بغیر سو گئے تھے اور یہ اللہ کی رضا اس میں سمجھتا تھا کہ وہ ان کی نیند و آرام میں خلل اندازنہ ہو،
جس وقت نیند سے خود ان کی آنکھ کھلے تو یہ ان کو دودھ پلائے،
اس لیے یہ اپنے آرام اور راحت کو قربان کر کے ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا،
حتی کہ اس طرح صبح ہو گئی،
اور اس کے معصوم،
پیارے پیارے بچے اس کے قدموں میں پڑے بھوک سے روتے چلاتے رہے،
لیکن اس بوڑھے ماں باپ کے حق کو مقدم خیال کر کے اللہ ہی کی خوشنودی کے لیے یہ مجاہدہ بھی کیا کہ بوڑھے ماں باپ سے پہلے اپنے پیرے بچوں کو بھی دودھ نہ پلایا۔
(3)
ایک دوسرا شخص ہے،
جو اپنی عم زاد کے عشق میں مبتلا ہے اور پردہ کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے،
اس کے گھر اس کی کھلی آمدورفت ہے اور وہ شادی شدہ ہے اور اپنی گھریلو،
مجبوریوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر،
آخرکار،
ایک معقول رقم طے کر کے،
اس کی خواہش پوری کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے اور وہ محنت و مزدوری کر کے اس کو رقم مہیا کر دیتا ہے اور اس کو زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری کرنے کا پوراپورا موقع مل جاتاہے اور کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی تو ٹھیک اس وقت وہ اللہ کی بندی،
اسے اللہ کا خوف یاد دلاتی ہے اور اس کو احساس ہوجاتا ہے،
یہ اس قدر مجبور اور بے بس ہوکر بھی اللہ سے ڈررہی ہے تو وہ اپنے نفس کی خواہش لب بام پہنچ کر پوری کیے بغیر اللہ سے ڈر کر اس کی رضا طلبی میں لگ جاتا ہے،
ہر نفس رکھنے والا انسان اپنے طور پر اندازہ کر سکتا ہے،
یہ کتنا سخت مجاہدہ ہے اور اللہ کی رضا کے مقابلے میں اپنی خواہش نفس کو قربان کرنے کی کتنی اعلیٰ مثال ہے۔
(4)
تیسرا شخص ایک مقررہ مزدوری پر مزدور رکھتا ہے،
آدھا دن گزرنے کے بعد ایک اور مزدور آتا ہے،
اس کو بھی مزدور رکھ لیتا ہے،
وہ آدھے دن میں،
دوسرے ساتھیوں کے بقدر پورے دن کا کام کر ڈالتا ہے اور مالک اس کو دوسرے مزدوروں کے برابر اجرت دے دیتا ہے،
ایک مزدور ناراض ہو جاتا ہے کہ اس کو ہمارے برابر مزدوری کیسے مل گئی ہے،
مالک سمجھاتاہے،
تمہیں تمہاری طے شدہ مزدوری دے رہا ہوں،
تجھے دوسرے کو مزدوری دینے پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہے،
لیکن وہ نہیں مانتا اور مزدوری چھوڑ کر ناراض ہو کر چلاجاتا ہے تو مالک اس کی مزدوری کے چاولوں کو اپنی زمین میں کاشت کرنا شروع کر دیتا ہے،
پھر جو پیداوار حاصل ہوتی ہے،
وہ سب اس مزدور کی ملکیت قرار دیتا ہے،
پھر ان کو بیچ کر جانور خریدتا ہے،
اللہ ان میں اس قدر اضافہ فرماتا ہے کہ آہستہ آہستہ،
اونٹ،
بکریاں اور گائے کے ریوڑ تیار ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کی نگہداشت کے لیے غلام بھی خریدتا ہے،
پھر جب عرصہ گزرنے کے بعد وہ مزدور آتا ہے تو یہ اللہ کا نیک اور امانت دار بندہ وہ سارے حیوانات اور غلام جو خود اس کی محنت و کوشش اور توجہ سے فراہم ہوئے تھے تو وہ سب کے سب اس مزدور کے حوالہ کر دیتا ہے،
اب ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اپنے نفس کی یہ کتنی شدید خواہش ہوگی کہ یہ دولت جو میری محنت اور توجہ سے حاصل ہوئی اور مزدور کو اس کا علم تک نہیں ہے،
اس کو اپنے پاس ہی رکھا جائے،
لیکن اس اللہ کے بندے نے اللہ کی خوشنودی کی طلب میں اپنے نفس کی اس شدید خواہش کو قربان کیا اور وہ ساری دولت اس مزدور کے حوالے کر دی،
جو بلاوجہ ناراض ہوکر چلاگیا تھا اور بات سمجھانے کے باوجود نہیں ماناتھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6949]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2215
2215. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین آدمی کہیں جانے کے لیے نکلے تو راستے میں انھیں بارش نے آلیا چنانچہ (بارش سے بچنے کے لیے) وہ تینوں ایک پہاڑ کی غار میں داخل ہوگئے۔ اوپر سے ایک چٹان گری (جس سے غار کامنہ بند ہوگیا) انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اپنے بہترین عمل کا وسیلہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو جو تم نے کیاہے، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں گھر سے نکلتا اور اپنے مویشیوں کو چراتا پھر شام کو واپس آتا، دودھ نکالتا، اسے لے کر پہلے والدین کو پیش کرتا۔ جب وہ نوش جاں کرلیتے تو پھر بچوں بیوی اور دیگر اہل خانہ کو پلایا کرتا تھا۔ ایک شام مجھے دیر ہوگئی۔ جب میں واپس گھر آیا تو والدین سو گئے تھے۔ میں نے انھیں بیدار کرنا اچھا خیال نہ کیا۔ دریں حالت میرے بچے پاؤں کے پاس بھوک سے بلبلارہے تھے۔ میری اور میرے والدین کی کیفیت رات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2215]
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒ ا س باب میں جو یہ حدیث لائے۔
اس سے مقصود اخیر شخص کا بیان ہے کیوں کہ بغیر مالک سے پوچھے اس جوار کو دوسرے کام میں صرف کیا اور اس سے نفع کمایا، اور بیع کو بھی اس پر قیاس کیا۔
تو بیع فضولی نکاح فضولی کی طرح صحیح ہے اور مالک کی اجازت پر نافذ ہوجاتی ہے۔
اس حدیث طویل سے اعمال صالحہ کو بطور وسیلہ اللہ کے سامنے پیش کرنا بھی ثابت ہوا کہ اصل وسیلہ ایسے ہی اعمال صالحہ کا ہے اور آیت کریمہ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ کا یہی مفہوم ہے۔
جو لوگ قبروں، مزاروں اور مردہ بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
اور ایسے وسائل بعض دفعہ شرکیات کی حد میں داخل ہوجاتے ہیں۔
حدیث میں چرواہے کا واقعہ ہے جس سے بچوں پر ظلم کا شبہ ہوتا ہے کہ وہ رات بھر بھوکے بلبلاتے رہے۔
مگر یہ ظلم نہیں ہے۔
یہ ان کی نیک نیتی تھی کہ وہ پہلے والدین کو پلانا چاہتے تھے اور آیت کریمہ ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ (الحشر: 9)
کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے جو یہاں مذکور ہے۔
وهنا طریق أخر في الجواز و وهو أنه صلی اللہ علیه وسلم ذکر هذہ القصة في معرض المدح و الثناء علی فاعلها و أقرہ علی ذلك و لو کان لا یجوز لبینه۔
یعنی باب کے مضمون مذکورہ کا جواز یوں بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قصہ کو اور اس میں اس مزدور کے متعلق امر واقعہ کو بطور مدح و ثنا ذکر فرمایا۔
اسی سے مضمون باب ثابت ہوا کہ اگر یہ فعل ناجائز ہوتا تو آپ اسے بیان فرما دیتے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2215]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2333
2333. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین آدمی سفر میں جارہے تھے کہ انھیں بارش نے آلیا۔ انھوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ غار کے منہ پر پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر آگرا جس سے غار کا منہ بند ہوگیا۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم ا پنے اپنے اعمال پر نظر کرو کہ کس نے کیا کیا نیک عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے، پھر اس کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو شاید اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو تم سے دور کردے، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اےاللہ! میرے بوڑھے والدین اور چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ جب میں لوٹتا تو دودھ دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دودھ پلاتا۔ ایک دن مجھے دیر ہوگئی اور رات گئے تک گھر نہ آیا۔ جب آیا تو دیکھا کہ میرے والدین سو گئے ہیں۔ میں نے دودھ دوہا جیسا کہ میں دوہتا تھا اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2333]
حدیث حاشیہ:
دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
یعنی میں نے محنت کرکے سو اشرفیاں جمع کیں۔
ابن عقبہ کی روایت کو خود امام بخاری ؒنے کتاب الادب میں وصل کیا ہے۔
تشریح:
اس حدیث طویل کے ذیل میں حضرت حافظ صاحبؒ فرماتے ہیں:
أَوْرَدَ فِيهِ حَدِيثَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ انْطَبَقَ عَلَيْهِمُ الْغَارُ وَسَيَأْتِي الْقَوْلُ فِي شَرْحِهِ فِي أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمَقْصُودُ مِنْهُ هُنَا قَوْلُ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْأَجِيرِ حَقَّهُ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعْهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرُعَاتِهَا فَإِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ عَيَّنَ لَهُ أُجْرَتَهُ فَلَمَّا تَرَكَهَا بَعْدَ أَنْ تَعَيَّنَتْ لَهُ ثُمَّ تَصَرَّفَ فِيهَا الْمُسْتَأْجِرُ بِعَينهَا صَارَت من ضَمَانه قَالَ بن الْمُنِيرِ مُطَابَقَةُ التَّرْجَمَةِ أَنَّهُ قَدْ عَيَّنَ لَهُ حَقَّهُ وَمَكَّنَهُ مِنْهُ فَبَرِئَتْ ذِمَّتَهُ بِذَلِكَ فَلَمَّا تَرَكَهُ وَضَعَ الْمُسْتَأْجِرُ يَدَهُ عَلَيْهِ وَضْعًا مُسْتَأْنَفًا ثُمَّ تَصَرَّفَ فِيهِ بِطَرِيقِ الْإِصْلَاحِ لَا بِطَرِيقِ التَّضْيِيعِ فَاغْتُفِرَ ذَلِكَ وَلَمْ يُعَدَّ تَعَدِّيًا وَلِذَلِكَ تَوَسَّلَ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَجَعَلَهُ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِهِ وَأُقِرَّ عَلَى ذَلِكَ وَوَقَعَتْ لَهُ الْإِجَابَةُ الخ (فتح الباري)
یعنی اس جگہ امام بخاری ؒ نے ان تین اشخاص والی حدیث کو نقل فرمایا جن کو غار نے چھپا لیا تھا، اس کی پوری شرح کتاب احادیث الانبیاء میں آئے گی۔
یہاں مقصود ان تینوں میں سے اس ایک شخص کا قول ہے جس نے کہا تھا کہ میں نے اپنے مزدور کو اس کا پورا حق دینا چاہا۔
لیکن اس نے انکار کر دیا۔
پس اس نے اس کی کاشت شروع کر دی، یاں تک کہ اس نے اس کی آمد سے بیل اوراس کی لیے ہالی خرید لئے۔
پس ظاہر ہے کہ اس نے اس مزدور کی اجرت مقرر کر رکھی تھی مگر اس نے اسے چھوڑ دیا۔
پھر اس مالک نے اپنی ذمہ داری پر اسے کاروبار میں لگایا۔
ابن منیر نے کہا کہ مطابقت یوں ہے کہ اس باغ والے نے اس کی اجرت مقرر کر دی اور اس کو دی۔
مگر اس مزدور نے اسے چھوڑ دیا۔
پھر اس شخص نے اصلاح اور ترقی کی نیت سے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔
اسی نیت خیر کی وجہ سے اس نے اسے اپنا افضل عمل سمجھا اور بطور وسیلہ دربار الٰہی میں پیش کی اور اللہ اس نے اس عمل خیر کو قبول فرمایا اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
اس سے اعمال کو بطور وسیلہ بوقت دعاءدربار الٰہی میں پیش کرنا بھی ثابت ہوا۔
یہی وہ وسیلہ ہے جس کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 35)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور (اعمال خیر سے)
اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو، اور اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے جد و جہد محنت کوشش بصورت جہاد وغیرہ جاری رکھو تاکہ تم کو کامیابی حاصل ہو۔
جو لوگ اعمال خیر کو چھوڑ کر بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں اور اسی خیال باطل کے تحت ان کو اٹھتے بیٹھتے پکارتے ہیں وہ لوگ شرک کا ارتکاب کرکے عنداللہ زمرہ مشرکین میں لکھے جاتے ہیں۔
ابلیس علیه اللعنة کا یہ وہ فریب ہے جس میں نام نہاد اہل اسلام کی کثیر تعداد گرفتار ہے۔
اسی خیال باطل کے تحت بزرگان دین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات پر تقریبات کی جاتی ہیں۔
قربانیاں دی جاتی ہیں۔
عرس کئے جاتے ہیں۔
ان کے ناموں پر نذریں نیازیں ہوتی ہیں۔
یہ جملہ امور مشرکین قوموں سے سیکھے گئے ہیں اور جو مسلمان ان میں گرفتار ہیں ان کو اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2333]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5974
5974. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ایک دفعہ تین آدمی کہیں جا رہے تھے کہا انہیں بارش نے آ لیا۔ وہ پہاڑ کے غار میں گھس گئے، پھر غار کے منہ پر پہاڑ کی بہت بڑی چٹان گری جس سے اس کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم نے جو نیک کام کیے ہیں ان میں سے جو خالص اللہ کے لیے کیا ہے اس کے ذریعے سے اللہ کے حضور دعا کرو، ممکن ہے کہ وہ غار کو کھول دے چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے میں ان کے لیے بکریوں کا دودھ نکال کر اپنے والدین سے اس کی ابتدا کرتا، ان کے بعد اپنے بچوں کو پلاتا تھا۔ ایک دن درختوں کی تلاش میں بہت دور چلا گیا اور شام کو بہت دیر سے گھر آیا۔ میں نے والدین کو دیکھا کہ وہ سو گئے ہیں تاہم میں نے حسب معمول دودھ نکالا پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5974]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے نیک کاموں کو بوقت دعا بطور وسیلہ پیش کرنا جائز ثابت ہوا۔
آیت وابتغوآ الیہ الوسیلۃ (المائدۃ: 35)
کا یہی مطلب ہے۔
نیک لوگوں کا وسیلہ یہ ہے کہ وہ زندہ ہوں تو ان سے دعا کرائی جائے، مردوں کا وسیلہ بالکل بے ثبوت چیز ہے جس سے پرہیز کرنا فرض ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5974]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2215
2215. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین آدمی کہیں جانے کے لیے نکلے تو راستے میں انھیں بارش نے آلیا چنانچہ (بارش سے بچنے کے لیے) وہ تینوں ایک پہاڑ کی غار میں داخل ہوگئے۔ اوپر سے ایک چٹان گری (جس سے غار کامنہ بند ہوگیا) انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اپنے بہترین عمل کا وسیلہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو جو تم نے کیاہے، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں گھر سے نکلتا اور اپنے مویشیوں کو چراتا پھر شام کو واپس آتا، دودھ نکالتا، اسے لے کر پہلے والدین کو پیش کرتا۔ جب وہ نوش جاں کرلیتے تو پھر بچوں بیوی اور دیگر اہل خانہ کو پلایا کرتا تھا۔ ایک شام مجھے دیر ہوگئی۔ جب میں واپس گھر آیا تو والدین سو گئے تھے۔ میں نے انھیں بیدار کرنا اچھا خیال نہ کیا۔ دریں حالت میرے بچے پاؤں کے پاس بھوک سے بلبلارہے تھے۔ میری اور میرے والدین کی کیفیت رات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2215]
حدیث حاشیہ:
(1)
فرق، دو صاع کے برابر غلہ ناپنے کا ایک پیمانہ ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے بیع فضولی کا جواز ثابت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے کوئی چیز خرید لے، پھر وہ راضی ہوجائے تو یہ سودا جائز ہے۔
دوسرے شخص کا راضی ہونا ضروری ہے۔
بیع فضولی،نکاح فضولی کی طرح صحیح ہے اور دوسرے شخص کی اجازت پر نافذ ہوجاتی ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال اس حدیث میں آخری شخص کا بیان ہے کیونکہ اس نے اصل مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مملوکہ مال کو کام میں صرف کیا، اس سے نفع کمایا،گائیں خریدیں اور نگہبانی کے لیے ایک چرواہا رکھا، آخر کار اس مزدور نے اسے قبول کرلیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کو بطور مدح وثنا کے بیان فرمایا۔
اگر آخری شخص کا یہ عمل ناجائز ہوتا تو وہ اسے اللہ کے حضور کیوں پیش کرتا؟ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی وضاحت فرمادیتے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہمارے لیے حجت ہے بشرطیکہ اس کا کوئی ضابطہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر انکار ثابت نہ ہو، لیکن فکر فراہی کے حاملین کو اس طریق استدلال سے اتفاق نہیں۔
انھوں نے اس حدیث کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ اس قصے سے فقہی اصول مستنبط نہیں کیے جاسکتے، نیز ان کے نزدیک اس حدیث میں بہت عریانی پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ دعا کا یہ طریقہ اسلام کے مزاج کے منافی ہے، پھر اس طرح کی دیگر روایات جن سے دعا کرتے وقت کسی نیک عمل یا کسی زندہ نیک شخص کے وسیلے کا ذکر ہے ان کا انکار کیا ہے اور انھیں شیعہ حضرات کی گھڑی ہوئی کہانی قرار دیا ہے، پھر اس انکار کی بنیاد کوئی علمی اصول نہیں بلکہ ان کی طبع زاد "درایت" ہے۔
اس درانتی سے صحیح احادیث کو کاٹا جاتا ہے۔
(تدبر حدیث: 498/1)
بہر حال ہمارے نزدیک بیع فضولی صحیح ہے اور اعمال صالحہ کو اللہ کے حضور بطور وسیلہ پیش کیا جاسکتا ہے۔
قرآن کریم میں بھی اس کا اشارہ ملتا ہے۔
(المائدة: 35: 5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2215]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2333
2333. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین آدمی سفر میں جارہے تھے کہ انھیں بارش نے آلیا۔ انھوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ غار کے منہ پر پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر آگرا جس سے غار کا منہ بند ہوگیا۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم ا پنے اپنے اعمال پر نظر کرو کہ کس نے کیا کیا نیک عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے، پھر اس کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو شاید اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو تم سے دور کردے، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اےاللہ! میرے بوڑھے والدین اور چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ جب میں لوٹتا تو دودھ دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دودھ پلاتا۔ ایک دن مجھے دیر ہوگئی اور رات گئے تک گھر نہ آیا۔ جب آیا تو دیکھا کہ میرے والدین سو گئے ہیں۔ میں نے دودھ دوہا جیسا کہ میں دوہتا تھا اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2333]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں واضح طور پر ہے کہ تیسرے شخص نے ایک مزدور کا حق اسے پیش کیا تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد مالک نے اس کی مزدوری میں تصرف کیا اور اسے کام میں لگایا، اگر یہ تصرف جائز نہ ہوتا تو اللہ کی نافرمانی ہوتی جو سراسر گناہ ہے پھر اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب کیونکر حاصل ہو سکتا تھا۔
چونکہ اس نے مزدور کی مرضی کے بغیر اسے کام میں لگایا تھا اس بنا پر اگر اس کی مزدوری ضائع ہو جاتی تو اس پر تاوان واجب تھا، اس بنا پر عنوان صحیح ہے اور یہ حدیث بھی اس کے مطابق ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا جائز اور مشروع ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے شارح بخاری ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے:
اس شخص نے مزدور کی اجرت مقرر کر کے اس کے حوالے کر دی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور اسے چھوڑ کر چلا گیا، چنانچہ اس شخص نے ترقی اور اصلاح کی نیت سے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔
اسے ضائع کرنا مقصود نہیں تھا، اسی نیت خیر کی وجہ سے اس نے اسے اپنا بہترین عمل خیال کیا اور بطور وسیلہ اللہ کے حضور پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما کر انہیں نجات دی، اس کے باوجود اگر مزدوری ضائع ہو جاتی تو اس کا تاوان ادا کرنا ہوتا کیونکہ اس نے تصرف کی اجازت نہیں دی تھی۔
(فتح الباري: 21/5) (3)
واضح رہے کہ جو لوگ اعمال خیر چھوڑ کر بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، پھر وہ ان کے نام پر نذریں، نیازیں دیتے ہیں انہیں اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہیے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی ذریعہ تلاش کرو۔
(المائدة: 35: 5)
اعمال خیر کے بغیر کسی اور چیز سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہمیں نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
آمین
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2333]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5974
5974. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ایک دفعہ تین آدمی کہیں جا رہے تھے کہا انہیں بارش نے آ لیا۔ وہ پہاڑ کے غار میں گھس گئے، پھر غار کے منہ پر پہاڑ کی بہت بڑی چٹان گری جس سے اس کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم نے جو نیک کام کیے ہیں ان میں سے جو خالص اللہ کے لیے کیا ہے اس کے ذریعے سے اللہ کے حضور دعا کرو، ممکن ہے کہ وہ غار کو کھول دے چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے میں ان کے لیے بکریوں کا دودھ نکال کر اپنے والدین سے اس کی ابتدا کرتا، ان کے بعد اپنے بچوں کو پلاتا تھا۔ ایک دن درختوں کی تلاش میں بہت دور چلا گیا اور شام کو بہت دیر سے گھر آیا۔ میں نے والدین کو دیکھا کہ وہ سو گئے ہیں تاہم میں نے حسب معمول دودھ نکالا پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5974]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حديث سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت دعا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کی خدمت کرنا اور انھیں بیوی بچوں پر ترجیح دینا افضل عمل ہے۔
اس عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا اور انھیں شرف قبولیت سے نوازتا ہے، اس کے برعکس جو انسان والدین کا نافرمان ہے اور ان کی خدمت گزاری سے پہلو تہی کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں ذلیل وخوار ہوگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ اس انسان کی ناک خاک آلود کرے اور اسے تباہ وبرباد کرے جس نے اپنے والدین میں سے دونوں یا ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر ان کی خدمت کرکےجنت نہ لےسکا۔
(صحیح مسلم، البروالصلة،حدیث: 6510(2551) (2)
اس حدیث سے نیک کاموں کو بوقت دعا بطور وسیلہ پیش کرنا بھی جائز ثابت ہوا، لیکن مردوں کا وسیلہ بالکل بے ثبوت ہے، اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5974]

Sahih Bukhari Hadith 2272 in Urdu