صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب إذا استأجر أرضا فمات أحدهما:
باب: اگر کوئی زمین کو ٹھیکہ پر لے پھر ٹھیکہ دینے والا یا لینے والا مر جائے۔
حدیث نمبر: Q2285
وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: لَيْسَ لِأَهْلِهِ أَنْ يُخْرِجُوهُ إِلَى تَمَامِ الْأَجَلِ، وَقَالَ الْحَكَمُ، وَالْحَسَنُ، وَإِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: تُمْضَى الْإِجَارَةُ إِلَى أَجَلِهَا، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِالشَّطْرِ، فَكَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ جَدَّدَا الْإِجَارَةَ بَعْدَمَا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور ابن سیرین نے کہا کہ زمین والے بغیر مدت پوری ہوئے ٹھیکہ دار کو (یا اس کے وارثوں کو) بے دخل نہیں کر سکتے۔ اور حکم، حسن اور ایاس بن معاویہ نے کہا اجارہ مدت ختم ہونے تک باقی رہے گا۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا اجارہ آدھوں آدھ بٹائی پر یہودیوں کو دیا تھا۔ پھر یہی ٹھیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک رہا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بھی شروع خلافت میں۔ اور کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نیا ٹھیکہ کیا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: Q2285]
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ، أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْمَزَارِعَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ نَافِعٌ لَا أَحْفَظُهُ،
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہودیوں کو) خیبر کی زمین دے دی تھی کہ اس میں محنت کے ساتھ کاشت کریں اور پیداوار کا آدھا حصہ خود لے لیا کریں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے یہ بیان کیا کہ زمین کچھ کرایہ پر دی جاتی تھی۔ نافع نے اس کرایہ کی تعیین بھی کر دی تھی لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2285]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی کہ ”وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ انھیں ملے گا۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زرعی اراضی کا ایک کرایہ ٹھہرا کر کاشت کے لیے دی جاتی تھی۔ (راوی کہتا ہے کہ) کرائے کا تعین حضرت نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا تھا، لیکن مجھے یاد نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2285]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 2285 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي