🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالٌ:
باب: جس شخص کا حق نکلتا ہو وہ تقاضا کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2401
وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عُقُوبَتَهُ وَعِرْضَهُ، قَالَ سُفْيَانُ: عِرْضُهُ يَقُولُ مَطَلْتَنِي وَعُقُوبَتُهُ الْحَبْسُ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ (قرض کے ادا کرنے پر) قدرت رکھنے کے باوجود ٹال مٹول کرنا، اس کی سزا اور اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے۔ سفیان نے کہا کہ عزت کو حلال کرنا یہ ہے کہ قرض خواہ کہے ”تم صرف ٹال مٹول کر رہے ہو“ اور اس کی سزا قید کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستقراض/حدیث: Q2401]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ، فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ:" دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص قرض مانگنے اور سخت تقاضا کرنے لگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گوشمالی کرنی چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، حقدار ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستقراض/حدیث: 2401]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص اپنے حق کا مطالبہ کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ اس نے حق طلبی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ سخت انداز اختیار کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی گوشمالی کرنے (اسے سزا دینے) کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، بے شک صاحب حق کو (کڑوی کسیلی) باتیں کرنے کا حق ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستقراض/حدیث: 2401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى
Newسلمة بن كهيل الحضرمي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سلمة بن كهيل الحضرمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2401
لصاحب الحق مقالا
بلوغ المرام
728
لي الواجد يحل عرضه وعقوبته
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2401 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2401
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حقوق العباد کے معاملہ میں اسلام نے کس قدر ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے۔
مذکورہ قرض خواہ وقت مقررہ سے پہلے ہی تقاضا کرنے آگیا تھا۔
اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس کی سخت کلامی کو برداشت کیا بلکہ اس کی سخت کلامی کو روا رکھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2401]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2401
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام نے حقوق العباد کے سلسلے میں کس قدر ذمہ داری کا احساس دلایا ہے۔
(2)
دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قرض خواہ وقت مقررہ سے پہلے ہی اپنے حق کا تقاضا کرنے آ گیا تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس کے درشت انداز اور سخت کلامی کو برداشت کیا بلکہ اس کے سخت رویے کو قانونی تحفظ دیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شان ہے کہ آپ ایسی باتیں سن کر کہتے ہیں کہ جس کا کوئی حق نکلتا ہے وہ کچھ کہنے کا حق دار بھی ہے، ہمارے جیسا ہوتا تو ایسے موقع پر اپنی آستین چڑھا لیتا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2401]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 728
مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان
سیدنا عمرو بن شرید رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مالدار آدمی کا ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرنا، اس کی بے عزتی اور سزا دینے کو حلال کرنا ہے۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے اور ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 728»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب في الدين هل يحبس به، حديث:3628، والنسائي، البيوع، حديث:4693، 4694، والبخاري، الاستقراض، قبل حديث:2401، وابن حبان (الموارد)، حديث:1164.»
تشریح:
اس حدیث کی رو سے مال دار اور صاحب ثروت آدمی محض اپنی خساست طبع کی وجہ سے قرض کی ادائیگی میں حیلے بہانے‘ ٹال مٹول اور لیت و لعل کرے جبکہ وہ آسانی سے قرض ادا کرنے کی حالت میں ہو تو ایسے آدمی کو قرض خواہ زبانی کلامی بے عزت بھی کر سکتا ہے اور بذریعۂ عدالت اسے سزا دلوانے کا بھی مجاز ہے۔
جمہور علماء نے تو صرف دس درہم تک کی مالیت یا مقدار کے مساوی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والے شخص کو فاسق اور مردود الشھادۃ قرار دیا ہے۔
(سبل السلام)
راویٔ حدیث:
«حضرت عمرو» ابوالولید عمرو بن شرید ”شین“ پر فتحہ اور ”را“ کے نیچے کسرہ) بن سوید۔
طائف کے قبیلۂثقیف سے تھے‘ اسی لیے ثقفی طائفی کہلائے۔
ثقہ تابعی ہیں اور تیسرے طبقے میں سے ہیں۔
«حضرت شرید رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ شرید بن سوید ثقفی۔
ان کا نام مالک تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام شرید رکھا۔
آپ نے ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھا کہ یہ اپنی قوم کا ایک فرد قتل کر کے مکہ میں آ گئے تھے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔
(تلقیح لابن الجوزي) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق حضر موت سے تھا اور ان کا شمار قبیلۂثقیف میں سے تھا۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انھیں اہل طائف میں شمار کیا جاتا تھا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 728]

Sahih Bukhari Hadith 2401 in Urdu