صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب قبول الهدية من المشركين:
باب: مشرکین کا ہدیہ قبول کر لینا۔
حدیث نمبر: 2616
وَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، إِنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور سعید نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ دومہ (تبوک کے قریب ایک مقام) کے اکیدر (نصرانی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2616]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ دومۃ الجندل کے حاکم اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ بھیجا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر سعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2616 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2616
حدیث حاشیہ:
جس کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
جس کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2616]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2616
حدیث حاشیہ:
(1)
دومۃ الجندل ایک شہر کا نام ہے جو تبوک کے قریب تھا، وہاں کا بادشاہ اکیدر بن عبدالملک عیسائی تھا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ اسے گرفتار کر کے لائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا کیونکہ اس نے جزیہ دینے پر صلح کر لی تھی۔
سندس ریشم کا جبہ اس نے بطور تحفہ بھیجا تھا۔
آپ نے وہ جبہ حضرت علی ؓ کو دیا اور فرمایا:
”اسے فواطم میں تقسیم کر دو۔
“ (صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5422(2071)
تو حضرت علی ؓ نے اس کے چار ٹکڑے کر کے اپنے زوجہ حضرت فاطمہ ؓ اور والدہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت اسد، نیز فاطمہ بنت حمزہ اور فاطمہ بنت ابی طالب ام ہانی کو تقسیم کر دیے۔
(2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ سیاسی اور معاشرتی حالات سازگار ہوں۔
اگر حالات خراب ہوں تو تحائف کا تبادلہ جائز نہیں۔
(1)
دومۃ الجندل ایک شہر کا نام ہے جو تبوک کے قریب تھا، وہاں کا بادشاہ اکیدر بن عبدالملک عیسائی تھا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ اسے گرفتار کر کے لائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا کیونکہ اس نے جزیہ دینے پر صلح کر لی تھی۔
سندس ریشم کا جبہ اس نے بطور تحفہ بھیجا تھا۔
آپ نے وہ جبہ حضرت علی ؓ کو دیا اور فرمایا:
”اسے فواطم میں تقسیم کر دو۔
“ (صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5422(2071)
تو حضرت علی ؓ نے اس کے چار ٹکڑے کر کے اپنے زوجہ حضرت فاطمہ ؓ اور والدہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت اسد، نیز فاطمہ بنت حمزہ اور فاطمہ بنت ابی طالب ام ہانی کو تقسیم کر دیے۔
(2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ سیاسی اور معاشرتی حالات سازگار ہوں۔
اگر حالات خراب ہوں تو تحائف کا تبادلہ جائز نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2616]
Sahih Bukhari Hadith 2616 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري