صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب قبول الهدية من المشركين:
باب: مشرکین کا ہدیہ قبول کر لینا۔
حدیث نمبر: Q2615
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام بِسَارَةَ، فَدَخَلَ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ أَوْ جَبَّارٌ، فَقَالَ: أَعْطُوهَا آجَرَ، وَأُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ، وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ.
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کے ساتھ ہجرت کی تو وہ ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک کافر بادشاہ یا (یہ کہا کہ) ظالم بادشاہ تھا۔ اس بادشاہ نے کہا کہ انہیں (ابراہیم علیہ السلام کو) آجر (ہاجرہ) کو دے دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (خیبر کے یہودیوں کی طرف سے دشمنی میں) ہدیہ کے طور پر بکری کا ایسا گوشت پیش کیا گیا تھا جس میں زہر تھا۔ ابوحمید نے بیان کیا کہ ایلہ کے حاکم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید خچر اور چادر ہدیہ کے طور بھیجی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھوایا کہ وہ اپنی قوم کے حاکم کی حیثیت سے باقی رہے (کیونکہ اس نے جزیہ دینا منظور کر لیا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: Q2615]
حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةُ سُنْدُسٍ،" وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ"، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے (مردوں کو) منع فرماتے تھے۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی (کہ کتنا عمدہ ریشم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (تمہیں اس پر حیرت ہے) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2615]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ پیش کیا گیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم سے منع فرمایا کرتے تھے۔ لوگوں کو یہ (جبہ) دیکھ کر بہت تعجب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے کہیں اچھے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3248
| مناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن من هذا |
صحيح البخاري |
2615
| مناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن من هذا |
صحيح مسلم |
6351
| عن الحرير فعجب الناس منها فقال والذي نفس محمد بيده إن مناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن من هذا |
جامع الترمذي |
1723
| مناديل سعد في الجنة خير مما ترون |
سنن النسائى الصغرى |
5304
| مناديل سعد في الجنة أحسن مما ترون |
Sahih Bukhari Hadith 2615 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري