🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22M. باب وما للوصي أن يعمل فى مال اليتيم، وما يأكل منه بقدر عمالته:
باب: وصی کے لیے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھا لینا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2764
{حَسِيبًا} يَعْنِي كَافِيًا.
‏‏‏‏ آیت میں «حسيبا» کے معنی کافی کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: Q2764]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: ثَمْغٌ، وَكَانَ نَخْلًا، فَقَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالًا وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ، وَلَا يُوهَبُ، وَلَا يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ"، فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ، فَصَدَقَتُهُ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي الرِّقَابِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلِذِي الْقُرْبَى، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُوكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ بِهِ.
ہم سے ہارون بن اشعث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے بنو ہاشم کے غلام ابوسعید نے بیان کیا ‘ ان سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک جائیداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وقف کر دی ‘ اس جائیداد کا نام ثمغ تھا اور یہ ایک کھجور کا ایک باغ تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ایک جائیداد ملی ہے اور میرے خیال میں نہایت عمدہ ہے ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے صدقہ کر دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصل مال کو صدقہ کر کہ نہ بیچا جا سکے نہ ہبہ کیا جا سکے اور نہ اس کا کوئی وارث بن سکے ‘ صرف اس کا پھل (اللہ کی راہ میں) صرف ہو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر دیا ‘ ان کا یہ صدقہ غازیوں کے لیے ‘ غلام آزاد کرانے کے لیے، محتاجوں اور کمزوروں کے لیے ‘ مسافروں کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے تھا اور یہ کہ اس کے نگراں کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا کہ وہ دستور کے موافق اس میں سے کھائے یا اپنے کسی دوست کو کھلائے بشرطیکہ اس میں سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2764]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنا مال صدقہ کیا، وہ کھجوروں کا باغ تھا جسے «ثَمْغ» کہا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایک جائیداد ملی ہے اور میرے نزدیک یہ نہایت ہی عمدہ مال ہے، میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل مال کو اس طرح صدقہ کرو کہ اسے نہ فروخت کیا جائے اور نہ کسی کو ہبہ کیا جائے، نیز اسے بطور وراثت تقسیم نہ کیا جائے لیکن اس کی پیداوار اور پھل وغیرہ استعمال کیا جاتا رہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر دیا۔ ان کا یہ صدقہ فی سبیل اللہ، نیز غلام آزاد کرنے، مسکینوں، مہمانوں، مسافروں اور قریبی رشتہ داروں کے لیے تھا۔ اور جو کوئی اس کا نگران ہو وہ اس سے معروف طریقے سے کھا سکتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں، اور اپنے احباب کو بھی کھلا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥صخر بن جويرية البصري، أبو نافع
Newصخر بن جويرية البصري ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥جردقة البصري، أبو سعيد
Newجردقة البصري ← صخر بن جويرية البصري
ثقة
👤←👥هارون بن الأشعث الهمداني، أبو عمران
Newهارون بن الأشعث الهمداني ← جردقة البصري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2764 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2764
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وقف کا متولی اپنی محنت کے عوض دستور کے موافق اس میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے اپنا باغ وقف فرماتے وقت طے کر دیا تھا۔
امام قسطلانی ؒ فرماتے ہیں:
ومطابقة الحدیث للترجمة من جھة أن المقصود جواز أخذ الأجرة من مال الیتیم لقول عمر ولا جناح علی من ولیه أن یأکل منه بالمعروف (قسطلانی)
مطلب وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2764]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2764
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وقف کا نگران اپنی محنت کے عوض دستور کے مطابق اس سے کھا سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے باغ وقف کرتے وقت طے کر دیا تھا۔
اسی طرح یتیم کا مال تجارت میں لگانا، پھر اس سے محنت کا عوضانہ وصول کرنا جائز ہے بشرطیکہ عرف کے مطابق ہو۔
اسے ذخیرہ اندوزی کا بہانہ بنانا درست نہیں جیسا کہ آئندہ حدیث عائشہ میں اس کی وضاحت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2764]

Sahih Bukhari Hadith 2764 in Urdu