🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22M. باب وما للوصي أن يعمل فى مال اليتيم، وما يأكل منه بقدر عمالته:
باب: وصی کے لیے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھا لینا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ أن يصيب من ماله، إذا كان محتاجا بقدر ماله بالمعروف".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام سے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے (قرآن مجید کی اس آیت) «ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعرو» اور جو شخص مالدار ہو وہ اپنے کو یتیم کے مال سے بالکل روکے رکھے ‘ البتہ جو شخص نادار ہو تو وہ دستور کے مطابق کھا سکتا ہے کے بارے میں فرمایا کہ یتیموں کے ولیوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ یتیم کے مال میں سے اگر ولی نادار ہو تو دستور کے مطابق اس کے مال میں سے لے سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن إسماعيل الهباري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسماعيل الهباري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2765 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2765
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے باب کا پہلا حصہ یعنی یتیموں کے مال میں نیک نیتی سے تجارت کرنا‘ پھر اپنی محنت کے مطابق اس میں سے کھانا درست ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2765]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2765
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ یتیم کے مال کو تجارت میں لگانا جائز ہے، اس میں محنت کی جائے۔
اگر یتیم کا متولی مال دار ہے تو یہ خدمت فی سبیل اللہ انجام دے۔
اگر محتاج ہے تو ضرورت کے مطابق یا بقدر عمل لینے کی اجازت ہے۔
(2)
یتیم کے علاوہ دیگر معاملات میں اگر کوئی شخص محبوس (کسی کام کی وجہ سے مصروف، یعنی خدمت وغیرہ میں)
ہے تو وہ اپنے کام اور محنت کے مطابق اس کا عوضانہ لے سکتا ہے، خواہ محنت کرنے والا مال دار ہو یا تنگدست، البتہ یتیم کے مال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس احتیاط کے متعلق نص صریح ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2765]