صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب نفقة القيم للوقف:
باب: وقف کی جائیداد کا اہتمام کرنے والا اپنا خرچ اس میں سے لے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ" اشْتَرَطَ فِي وَقْفِهِ أَنْ يَأْكُلَ مَنْ وَلِيَهُ، وَيُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ اس کا متولی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے لیکن وہ دولت نہ جوڑے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2777 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2777
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ وقف پر کام کرنے والے لوگ، خواہ وہ مزدور ہوں یا نگران، وکیل ہوں یا دیگر کارندے ان تمام کے اخراجات وقف جائیداد سے پورے کیے جائیں گے۔
پہلی حدیث میں عاملین سے مراد فے والی زمین کے کارندے ہیں، یعنی بنو نضیر، فدک اور خیبر کی زمین کا انتظام جن کے سپرد تھا، ان کی تنخواہیں اور اخراجات ان زمینوں کی پیداوار سے ادا کیے جاتے تھے۔
اسی طرح ازواج مطہرات ؓ کے اخراجات بھی اسی سے پورے کیے جاتے تھے کیونکہ آپ کے بعد انہوں نے کسی سے دوسرا نکاح نہیں کرنا تھا، اس لیے ان کے لیے خرچہ جاری کیا گیا اور حجرات بھی ان کے لیے چھوڑ دیے گئے، اس کے علاوہ جو باقی بچتا اسے صدقے کی مد میں جمع کر دیا جاتا۔
(2)
حضرت عمر ؓ کی روایت میں صراحت ہے کہ جو کوئی وقفی جائیداد کا اہتمام کرے گا وہ اپنی محنت کا واجبی سا معاوضہ وقفی جائیداد سے لے سکتا ہے جس سے اخراجات پورے ہو سکیں۔
دوسرے لفظوں میں خصوصیات اور سہولیات و تعیشات کے بجائے ضروریات پوری کرنے کی گنجائش ہے۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے لیے ماہانہ تنخواہ مقرر کر لی جائے۔
واللہ أعلم
(1)
اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ وقف پر کام کرنے والے لوگ، خواہ وہ مزدور ہوں یا نگران، وکیل ہوں یا دیگر کارندے ان تمام کے اخراجات وقف جائیداد سے پورے کیے جائیں گے۔
پہلی حدیث میں عاملین سے مراد فے والی زمین کے کارندے ہیں، یعنی بنو نضیر، فدک اور خیبر کی زمین کا انتظام جن کے سپرد تھا، ان کی تنخواہیں اور اخراجات ان زمینوں کی پیداوار سے ادا کیے جاتے تھے۔
اسی طرح ازواج مطہرات ؓ کے اخراجات بھی اسی سے پورے کیے جاتے تھے کیونکہ آپ کے بعد انہوں نے کسی سے دوسرا نکاح نہیں کرنا تھا، اس لیے ان کے لیے خرچہ جاری کیا گیا اور حجرات بھی ان کے لیے چھوڑ دیے گئے، اس کے علاوہ جو باقی بچتا اسے صدقے کی مد میں جمع کر دیا جاتا۔
(2)
حضرت عمر ؓ کی روایت میں صراحت ہے کہ جو کوئی وقفی جائیداد کا اہتمام کرے گا وہ اپنی محنت کا واجبی سا معاوضہ وقفی جائیداد سے لے سکتا ہے جس سے اخراجات پورے ہو سکیں۔
دوسرے لفظوں میں خصوصیات اور سہولیات و تعیشات کے بجائے ضروریات پوری کرنے کی گنجائش ہے۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے لیے ماہانہ تنخواہ مقرر کر لی جائے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2777]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي