علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب تمني المجاهد أن يرجع إلى الدنيا:
باب: شہید کا دوبارہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا۔
حدیث نمبر: 2817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ: عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا میں نے قتادہ سے سنا ‘ کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2817]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2817
| ما أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وله ما على الأرض من شيء إلا الشهيد يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة |
صحيح البخاري |
2795
| ما من عبد يموت له عند الله خير يسره أن يرجع إلى الدنيا وأن له الدنيا وما فيها إلا الشهيد لما يرى من فضل الشهادة فإنه يسره أن يرجع إلى الدنيا فيقتل مرة أخرى |
صحيح مسلم |
4867
| ما من نفس تموت لها عند الله خير يسرها أنها ترجع إلى الدنيا ولا أن لها الدنيا وما فيها إلا الشهيد فإنه يتمنى أن يرجع فيقتل في الدنيا لما يرى من فضل الشهادة |
صحيح مسلم |
4868
| ما من أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وأن له ما على الأرض من شيء غير الشهيد فإنه يتمنى أن يرجع فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة |
جامع الترمذي |
1643
| ما من عبد يموت له عند الله خير يحب أن يرجع إلى الدنيا وأن له الدنيا وما فيها إلا الشهيد لما يرى من فضل الشهادة فإنه يحب أن يرجع إلى الدنيا فيقتل مرة أخرى |
جامع الترمذي |
1661
| ما من أحد من أهل الجنة يسره أن يرجع إلى الدنيا غير الشهيد فإنه يحب أن يرجع إلى الدنيا يقول حتى أقتل عشر مرات في سبيل الله مما يرى مما أعطاه من الكرامة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2817 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2817
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر ؓسے فرمایا:
” کیا تجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے والد بزرگوار سے کیا کہا؟ آپ نے کہا کہ اللہ نے فرمایا:
اے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!تم کسی خواہش کا اظہار کرو تاکہ اسے پورا کیا جائے۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
یا اللہ!مجھے زندہ کردے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو پہلے سے طے شہد فیصلہ ہے کہ جو انسان دنیا سے آچکا ہے اسے کسی صورت میں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
“ (جا مع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث 3010)
2۔
مذکورہ حدیث سے شہادت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے دراصل بھلے کاموں میں صرف ایک جہاد ہے جس میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے اس لیے شہادت کی عظمت بھی بہت رکھی گئی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر ؓسے فرمایا:
” کیا تجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے والد بزرگوار سے کیا کہا؟ آپ نے کہا کہ اللہ نے فرمایا:
اے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!تم کسی خواہش کا اظہار کرو تاکہ اسے پورا کیا جائے۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
یا اللہ!مجھے زندہ کردے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو پہلے سے طے شہد فیصلہ ہے کہ جو انسان دنیا سے آچکا ہے اسے کسی صورت میں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
“ (جا مع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث 3010)
2۔
مذکورہ حدیث سے شہادت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے دراصل بھلے کاموں میں صرف ایک جہاد ہے جس میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے اس لیے شہادت کی عظمت بھی بہت رکھی گئی ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2817]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4867
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی انسان نہیں ہے، جو فوت ہوا اور اس کے ہاں اچھا مقام ہو کہ اسے دنیا میں واپس آنا پسند ہو، اگرچہ اسے دنیا و مافیھا [صحيح مسلم، حديث نمبر:4867]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
شہید کو اس لیے یہ مقام ملا ہے کہ اس کی روح جنت میں حاضر ہوتی ہے،
جبکہ عام مسلمانوں کی ارواح وہاں قیامت کو پہنچیں گی،
اللہ اور اس کے فرشتے ان کے جنتی ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور وہ روح نکلتے ہی اپنی عزت اور اجر و ثواب کا مشاہدہ کر لیتے ہیں،
موت کے وقت فرشتے ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور ان کی روح لے جاتے ہیں،
ان کی ظاہری حالت ان کے ایمان اور خاتمہ بالخیر کی گواہ ہے۔
فوائد ومسائل:
شہید کو اس لیے یہ مقام ملا ہے کہ اس کی روح جنت میں حاضر ہوتی ہے،
جبکہ عام مسلمانوں کی ارواح وہاں قیامت کو پہنچیں گی،
اللہ اور اس کے فرشتے ان کے جنتی ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور وہ روح نکلتے ہی اپنی عزت اور اجر و ثواب کا مشاہدہ کر لیتے ہیں،
موت کے وقت فرشتے ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور ان کی روح لے جاتے ہیں،
ان کی ظاہری حالت ان کے ایمان اور خاتمہ بالخیر کی گواہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4867]
Sahih Bukhari Hadith 2817 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري