صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب قتال الذين ينتعلون الشعر:
باب: ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" رِوَايَةً صِغَارَ الْأَعْيُنِ ذُلْفَ الْأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے لڑائی نہ کر لو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کے چہرے تہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔“ سفیان نے بیان کیا کہ اس میں ابوالزناد نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ زیادہ نقل کیا کہ ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ناک موٹی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بتہ چمڑہ لگی ڈھال ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن ذكوان القرشي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن علي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2929 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2929
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں بھی قوم ترک کا بیان ہے اور یہ ان کے قبول اسلام سے پہلے کا ذکر ہے۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں تین قومیں ایسی ہیں کہ انہوں نے خاص طور پر ساری قوم نے اسلام قبول کرلیا‘ عرب‘ ترک اور افغان۔
یہ جب اسلام میں داخل ہوئے تو روئے زمین پر سب ہی مسلمان ہوگئے۔
﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ باب ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا
اس حدیث میں بھی قوم ترک کا بیان ہے اور یہ ان کے قبول اسلام سے پہلے کا ذکر ہے۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں تین قومیں ایسی ہیں کہ انہوں نے خاص طور پر ساری قوم نے اسلام قبول کرلیا‘ عرب‘ ترک اور افغان۔
یہ جب اسلام میں داخل ہوئے تو روئے زمین پر سب ہی مسلمان ہوگئے۔
﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ باب ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2929]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2929
حدیث حاشیہ:
1۔
چوڑی ڈھال سے تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ چہرے گول موٹے اور زیادہ گوشت والے ہوں گے۔
2۔
حدیث میں مذکور جملہ صفات ترکوں پر صادق آتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین ؓکے عہد تک کافر تھے۔
جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔
”دجال مشرق میں خراسان سے نکلے گا۔
اس کے پیروکار چوڑے چہروں والے لوگ ہوں گے گویا کہ وہ مضبوط چوڑی چوڑی ڈھالیں ہیں۔
“ (جامع الترمذي، الفتن، حدیث2237)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک بار بار مسلمانوں سے جنگیں کریں گے۔
واللہ أعلم۔
1۔
چوڑی ڈھال سے تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ چہرے گول موٹے اور زیادہ گوشت والے ہوں گے۔
2۔
حدیث میں مذکور جملہ صفات ترکوں پر صادق آتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین ؓکے عہد تک کافر تھے۔
جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔
”دجال مشرق میں خراسان سے نکلے گا۔
اس کے پیروکار چوڑے چہروں والے لوگ ہوں گے گویا کہ وہ مضبوط چوڑی چوڑی ڈھالیں ہیں۔
“ (جامع الترمذي، الفتن، حدیث2237)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک بار بار مسلمانوں سے جنگیں کریں گے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2929]
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي