Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
102. باب دعاء النبى صلى الله عليه وسلم إلى الإسلام والنبوة، وأن لا يتخذ بعضهم بعضا أربابا من دون الله:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا (غیر مسلموں کو) اسلام کی طرف دعوت دینا اور اس بات کی دعوت کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر باہم ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2943
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ بَعْدَ مَا يُصْبِحُ، فَنَزَلْنَا خَيْبَرَ لَيْلًا".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو اس وقت تک کوئی اقدام نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہو جاتی، جب صبح ہو جاتی اور اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو صبح ہونے کے بعد حملہ کرتے۔ چنانچہ خیبر میں بھی ہم رات میں پہنچے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2943]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد الفزاري ← حميد بن أبي حميد الطويل
إمام ثقة حافظ
👤←👥معاوية بن عمرو الأزدي، أبو عمرو
Newمعاوية بن عمرو الأزدي ← إبراهيم بن محمد الفزاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← معاوية بن عمرو الأزدي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2943 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2943
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں بھی اشارہ ہے کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ہر وہ موقع تلاش کرلینا چاہئے جس سے جنگ کا خطرہ ٹل سکے کیونکہ اسلام کا مقصد جنگ ہرگز نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2943]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2943
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ جنگ سے پہلے ہر وہ موقع تلاش کرلینا چاہیے جس سے جنگ کا خطرہ ٹل سکے کیونکہ جنگ وقتال اسلام کے مقاصد سے نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک اس لیے انتظار کرتے تھے تاکہ پتہ نہ چل جائے کہ اس علاقے کے لوگ مسلمان ہیں یا نہیں۔
اذان وغیرہ اسلامی شعائر سے ان کا حال معلوم ہوجاتا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم کے متعلق معلوم نہ ہوسکے کہ انھیں دعوت اسلام پہنچی ہے یا نہیں تو صبح تک انتظار کرلیا جائے۔
اگراذان سنائی دے تو حملہ نہ کیاجائے بصورت دیگرحملہ کردیا جائے۔
دعوت اسلام کے متعلق جمہور کا مسلک یہ ہے کہ اگردعوت نہیں پہنچی تو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے،اگرپہنچ چکی ہے تو نئے سرے سے دینا مستحب ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2943]