صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. باب كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا لم يقاتل أول النهار أخر القتال حتى تزول الشمس:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے۔
حدیث نمبر: 2965
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَرَأْتُهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابی النضر نے، (سالم ان کے منشی تھے) بیان کیا کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے انہیں خط لکھا اور میں نے اسے پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض دنوں میں جن میں آپ جنگ کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی شروع کرتے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2965]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابو نضر سالم رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد کے موقع پر جس میں دشمن سے مقابلہ ہوا تھا، انتظار کیا یہاں تک کہ آفتاب ڈھل گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 2965 in Urdu
سالم بن أبي أمية القرشي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي