🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
121. باب ما قيل فى لواء النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيُّ،" أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ صَاحِبَ لِوَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرَادَ الْحَجَّ فَرَجَّلَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عقیل نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے خبر دی کہ قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار تھے، جب حج کا ارادہ کیا تو (احرام باندھنے سے پہلے) کنگھی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2974]
حضرت ثعلبہ بن ابومالک قرضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ جو (جہاد میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم بردار تھے، انہوں نے جب حج کا ارادہ کیا تو سر میں کنگھی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2974]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قيس بن سعد الأنصاري، أبو عبد الملك، أبو عبد الله، أبو الفضلصحابي
👤←👥ثعلبة بن أبي مالك القرظي، أبو مالك، أبو يحيى، أبو جعفر
Newثعلبة بن أبي مالك القرظي ← قيس بن سعد الأنصاري
له رؤية
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← ثعلبة بن أبي مالك القرظي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2974 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2974
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ جہاد میں علم نبوی اٹھایا جاتا تھا۔
اور اس کے اٹھانے والے قیس بن سعد انصاری ؓ ہوا کرتے۔
جنگ خیبر میں یہ جھنڈا اٹھانے والے حضرت علی ؓ تھے۔
جیسا کہ آگے ذکر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2974]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2974
حدیث حاشیہ:

(لواء،رايه اور علم)
تینوں جھنڈے کے نام ہیں۔
در اصل رئیس لشکر جھنڈے کو تھامتا تھا۔
اسے اس کے سر پر لہرایا جاتا تھا۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ لڑائیوں میں جھنڈے رکھنا جائز ہیں۔
اور یہ کبھی امیر کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور کبھی اس کے قائم مقام کے ہاتھ میں، اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔
اس کا سرنگوں ہونا گویا اسلام کے سرنگوں ہونے کی علامت ہے۔

یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے تاہم محل استشہار حصہ مرفوع ہی کے حکم میں ہے کیونکہ حضرت قیس بن سعد ؓ کا جھنڈا پکڑنا یقیناًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور آپ کی اجازت سے ہو گا۔
اور یہاں مقصود بھی جھنڈے کا اثبات ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2974]

Sahih Bukhari Hadith 2974 in Urdu