🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
157. باب الحرب خدعة:
باب: لڑائی مکر و فریب کا نام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3028
وَسَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً".
‏‏‏‏ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کو مکر اور فریب فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3028 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3028
حدیث حاشیہ:
اس زمانے میں روم اور ایران میں مستحکم حکومتیں قائم تھیں۔
ایرانی بادشاہ کو لفظ کسریٰ سے اور رومی بادشاہ کو لفظ قیصر سے ملقب کرتے تھے۔
ان ملکوں میں بادشاہوں کو خدا کے درجے میں سمجھا جاتا اور رعایا ان کی پرستش کیا کرتی تھی۔
آخر اسلام ایسے ہی مظالم اور انسانی دکھوں کو ختم کرنے آیا۔
اور اس نے لا إله إلا اللہ کا نعرہ بلند کیا کہ حقیقی بادشاہ صرف ایک اللہ رب العالمین ہے‘ دنیا میں بادشاہی کا غرور رکھنے والے اور رعایا کا خون چوسنے والے لوگ جھوٹے مکار ہیں۔
آخر ایسے مظالم کا ہمیشہ کے لئے ہر دو ملکوں سے خاتمہ ہوگیا اور عہد خلافت میں ہر دو ملکوں میں اسلامی پرچم لہرانے لگا۔
جس کے نیچے لوگوں نے سکھ اور اطمینان کا سانس لیا اور یہ ظالمانہ شاہیت ہر دو ملکوں سے نیست و نابود ہوگئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3028]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3028
حدیث حاشیہ:

قریش اکثر تجارت پیشہ تھے اور بغرض تجارت شام اور عراق جاتے تھے۔
وہ جب مسلمان ہوئے تو انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اب قیصروکسریٰ کی حکومتیں ہماری تجارت میں رکاوٹ بنیں گی تو آپ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
اب ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسری ٰ ہلاک ہوچکا تھا اور قیصر اس وقت زندہ تھا۔
اگرچہ قیصر وکسریٰ اس کے بعد بھی ہوئے ہیں لیکن ان کاوہ رعب و دبدبہ جو پہلے تھا وہ ختم ہوگیا اور وہ صرف نام کے قیصر وکسریٰ رہ گئے تھے۔

واضح رہے کہ روم کے بادشاہ کو قیصر اور ایران وعراق کے بادشاہ کو کسریٰ کہاجاتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں نے ان کے ملکوں کو فتح کیا اور ان کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کو دھوکے اور فریب کا نام دیا ہے،یعنی لڑائی میں جنگی چالوں کے ذریعے سے دشمن کو دھوکا دیا جاسکتا ہے لیکن اس سے مراد دغابازی کرنا اور عہد توڑنا نہیں کیونکہ ایسا کرنا حرام اورناجائز ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3028]