🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب غسل دم المحيض:
باب: حیض کا خون دھونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ، ثُمَّ تَقْتَرِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ".
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن حارث نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد قاسم بن محمد سے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا تو کپڑے کو پاک کرتے وقت ہم خون کو مل دیتے، پھر اس جگہ کو دھو لیتے اور تمام کپڑے پر پانی بہا دیتے اور اسے پہن کر نماز پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن القاسم التيمي ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أصبغ بن الفرج الأموي، أبو عبد الله
Newأصبغ بن الفرج الأموي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 308 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:308
حدیث حاشیہ:

اس عنوان کے تحت جو احادیث بیان ہوئی ہیں، ان میں حیض کے خون کو دھونے کاطریقہ بیان ہوا ہے کہ اس کپڑے کو خون سے پاک کرنے کے لیے مبالغے سے کام لیا جائے۔
وہ اس طرح کہ پہلے تو تھوڑا تھوڑا پانی ڈال کر انگلیوں کے پودوں سے ملا جائے، پھر اسے دھویا جائے، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔
چٹکیوں سے ملنے کا یہ فائدہ ہے کہ کپڑے کے تاروں میں جو خون پیوست ہوگیا تھا وہ نکل جائے گا۔
مقصد یہ ہے کہ حیض کے خون کو دھوتے وقت خوب مبالغے سے کام لیا جائے۔

امام بخاری ؒ نے کتاب الوضوء میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا تھا:
"باب غسل الدم" جس میں ہر قسم کے خون کو دھونے کا بیان تھا، پھر غسل منی کے متعلق بیان کیا تھا کہ اس کے دھونے میں عام ابتلا کی وجہ سے کچھ تخفیف تھی۔
اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ دم حیض کے دھونے میں بھی تخفیف ہے، لہذا اس خیال کو دور کرنے کے لیے فرمایا:
اسے دھونے کے لیے خصوصی اہتمام کی ضرورت ہے۔
خون حیض کی نجاست پر اجماع ہے اس حدیث کے آخر میں ہے کہ پھر تمام کپڑے پر پانی بہادیا جائے، حافظ ابن حجر ؒ نے اسے دفع وسوسہ کے لیے قراردیا ہے۔
(فتح الباري: 532/1)
اس سے پہلی حدیث میں غسل دم استحاضہ کا بیان تھا، یہاں دم حیض کے متعلق وضاحت فرمائی۔
ان میں فرق واضح کرنے کے لیے ایسا کام کیا ہے کہ دم حیض کومبالغے سے دھویا جائے، جبکہ دم استحاضہ میں زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں۔
دوسرا فرق آئندہ باب میں بیان ہوگا کہ حائضہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی، جبکہ مستحاضہ مسجد میں اعتکاف بھی بیٹھ سکتی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دم استحاضہ کی نجاست دم حیض کے مقابلے میں ذرا خفیف ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 308]

Sahih Bukhari Hadith 308 in Urdu