🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب إثم من قتل معاهدا بغير جرم:
باب: کسی ذمی کافر کو ناحق مار ڈالنا کیسا گناہ ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا".
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسن بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ذمی کو (ناحق) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥الحسن بن عمرو التميمي
Newالحسن بن عمرو التميمي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← الحسن بن عمرو التميمي
ثقة
👤←👥قيس بن حفص التميمي، أبو محمد
Newقيس بن حفص التميمي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة له أفراد
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3166
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة إن ريحها توجد من مسيرة أربعين عاما
صحيح البخاري
6914
من قتل نفسا معاهدا لم يرح رائحة الجنة إن ريحها ليوجد من مسيرة أربعين عاما
سنن النسائى الصغرى
4754
من قتل قتيلا من أهل الذمة لم يجد ريح الجنة إن ريحها ليوجد من مسيرة أربعين عاما
سنن ابن ماجه
2686
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة إن ريحها ليوجد من مسيرة أربعين عاما
بلوغ المرام
1129
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها ليوجد من مسيرة أربعين عاما
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3166 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3166
حدیث حاشیہ:

اگرچہ اس حدیث میں ناحق کے الفاظ نہیں ہیں لیکن قواعد شرعیہ کا یہی تقاضا ہے کہ اس سے مراد قتل ناحق ہے تاہم بعض روایات میں بغیرحق کی تصریح موجودہے، نیز سنن نسائی میں ہے:
جس شخص نے کسی ذمی کو ناحق قتل کیا اس پر جنت حرام ہے۔
(سنن النسائي، القسامة، حدیث: 4752)

مذکورہ شخص اس وقت تک جنت کی خوشبو نہیں پائے گا جب تک اپنے جرم کی سزانہ پالے یا اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے جائز اور حلال خیال کرکے ذمی کو قتل کیا ہو۔
بہرحال یہ حدیث سخت وعید پر محمو ل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3166]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1129
جزیہ اور صلح کا بیان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جس کسی نے عہدی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا اور جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1129»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الجزية والموادعة، باب إثم من قتل معاهدًا بغير جرم، حديث:3166.»
تشریح:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی ذمی اور معاہد کو بلاوجہ اور کسی شرعی حق کے بغیر قتل کرنا حرام ہے‘ البتہ ایسے مسلمان قاتل سے دنیا میں قصاص نہیں لیا جاتا‘ اس لیے اس کی اخروی سزا بیان کی گئی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1129]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4754
ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4754]
اردو حاشہ:
چالیس سال چالیس سال میں ستر کی نفی نہیں، لہٰذا یہ روایت سابقہ روایت کے خلاف نہیں۔ اور اگر کثرت کے معنیٰ مراد ہوں تو پھر تو سرے سے کوئی اشکال نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ جنت سے بہت دور رہے گا۔ لیکن اس سے مراد ابتدا ہے ورنہ آخر کار ہر مومن جنت میں جائے گا جیسا کہ پیچھے بیان ہو چکا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4754]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6914
6914. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس کسی نے ایسے شخص کو مارا جس نے عہد کیا گیا تھا، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھنے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6914]
حدیث حاشیہ:
اس میں وہ سب کافر آگئے جن کو دارالاسلام میں امان دیا گیا ہو خواہ بادشاہ اسلام کی طرف سے جزیہ یا صلح پر یا کسی مسلمان نے اس کو امان دی ہو لیکن اگر یہ بات نہ ہو تو اس کافر کی جان لینا یا اس کا مال لوٹنا شرع اسلام کی رو سے درست ہے۔
مثلاً وہ کافر جو دارالاسلام سے باہر سرحد پر رہتے ہوں، ان کی سرحد میں جا کر ان کو یا ان کی کافر رعیت کو لوٹنا مارنا حلال ہے۔
اسماعیلی کی روایت میں یوں ہے کہ بہشت کی خوشبو ستر برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے اور طبرانی کی ایک روایت میں سو برس مذکور ہیں۔
دوسری روایت میں پانچ سو برس اور فردوس دیلمی کی روایت میں ہزار برس مذکور ہیں اور یہ تعارض نہیں اس لیے کہ ہزار برس کی راہ سے بہشت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو پانچ سو یا سو یا ستر یا چالیس برس کی راہ سے اور زیادہ محسوس ہوگی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6914]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6914
6914. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس کسی نے ایسے شخص کو مارا جس نے عہد کیا گیا تھا، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھنے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6914]
حدیث حاشیہ:
(1)
معاہد سے مراد وہ غیر مسلم ہے جس کی حفاظت کا ذمہ مسلمانوں پر عائد ہوتا ہو،یعنی وہ اسلامی حکومت کا شہری ہو،خواہ سربراہ مملکت کی طرف سے جزیہ یا صلح پر اسے امان دی گئی ہویا کسی مسلمان نے اسے پناہ دے رکھی ہو،ان سب صورتوں میں کسی کافر کو ناجائز نہیں مارا جائے گا۔
(فتح الباري: 323/12) (2)
اگر کوئی غیر مسلم اسلامی حکومت میں رہتے ہوئے جارحانہ کارروائی کرتا ہے تو اس کا نوٹس لینا حکومت کا فرض ہے۔
اسی طرح اگر اسلامی ملک کی سرحدوں پر کافر لوگ باغیانہ کارروائیوں میں مصروف رہتے ہوں یا مسلمانوں کے جان ومال کو نقصان پہنچاتے ہوں تو ان کا سدباب کرنا بھی اسلامی حکومت کا اولین فرض ہے۔
مسلمانوں رعایا کو قانون ہاتھ میں لے کر کسی قسم کی کارروائی نہین کرنی چاہیے۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی یا معاہد کو قتل کر دے تو مسلمان کو قصاص کے طور پر قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس حدیث میں اس کے قتل پر اخروی وعید ہی بیان کی گئی ہے، دنیاوی سزا کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔
(فتح الباري: 234/12)
اس کے متعلق ہم آئندہ کسی وقت گفتگو کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6914]

Sahih Bukhari Hadith 3166 in Urdu