🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب صفة الشمس والقمر:
باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3204
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3204 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3204
حدیث حاشیہ:
ان جملہ احادیث میں کسی نہ کسی طرح سے چاند اور سورج کا ذکر آیا ہے اس لیے ان کو یہاں نقل کیاگیا۔
ان کے بارے میں جو کچھ زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوا اس سے آگے بڑھ کر بولنا مسلمان کے لیے روا نہیں ہے۔
آج کے حالات نے چاند اور سورج کے وجود کو مزید واضح کردیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ ﴿لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾ (حم السجدہ: 37)
یعنی چاند سورج کو سجدہ نہ کرو، یہ تو اللہ پاک کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں۔
سجدہ کرنے کے قابل صرف اللہ ہے جس نے ان سب کو وجود بخشا ہے۔
چاند میں جانے کے دعویداروں نے جو کچھ بتلایا ہے اس سے بھی قرآن پاک کی تصدیق ہوتی ہے کہ چاند بھی دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے وہ کوئی دیوی دیوتا یا مافوق المخلوق کوئی اور چیز نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3204]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3204
حدیث حاشیہ:

ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی حوالے سے سورج اور چاند کا ذکر آیاہے اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں بیان فرمایاہے۔
چونکہ یہ تمام انقلابات قدرت الٰہی کے تحت ہوتے رہتے ہیں لہٰذا ایسے مواقع پر خصوصیت کے ساتھ اللہ کو یاد کرنا نماز پڑھنا اور صدقہ و خیرات کرنا ایمان کی ترقی کا باعث ہے۔

دور حاضر میں چاند اور سورج کے گرہن کی جو وجہ بیان کی جاتی ہے کہ سورج اور چاند کے درمیان زمین حائل ہو جاتی ہے وہ شان قدرت ہی کا مظاہرہ ہے لہٰذا قرآن و حدیث میں کہیں بھی تضاد اور اختلاف نہیں ہے دراصل اللہ تعالیٰ انھیں بے نور کر کے اہل دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر ایسی فرمانبردار اور تابع فرمان مخلوق کو بے نور کیا جا سکتا ہے تو انسان جو سراسر نا فرمانی اور طغیانی میں مصروف ہیں انھیں بھی کسی وقت صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ یہ دونوں اس قابل نہیں کہ انھیں معبود کا درجہ دیا جائے اور انھیں سجدہ کیا جائے بلکہ سجدے کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے انھیں پیدا فرمایا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ صرف اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا ہے اگر تمھیں اس کی عبادت کرنا منظور ہے۔
(حم السجدة: 37)
مقصد یہ ہے کہ سورج اور چاند دونوں عروج و زوال سے دوچار ہوتے رہتے ہیں وہ الٰہ نہیں ہو سکتے لہٰذا تم اگر فی الواقع اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اللہ کی عبادت کرو جو ان کا خالق اور مالک ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3204]

Sahih Bukhari Hadith 3204 in Urdu