🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ:
باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3199
قَالَ مُجَاهِدٌ: كَحُسْبَانِ الرَّحَى، وَقَالَ غَيْرُهُ: بِحِسَابٍ وَمَنَازِلَ لَا يَعْدُوَانِهَا حُسْبَانٌ جَمَاعَةُ حِسَابٍ مِثْلُ شِهَابٍ وَشُهْبَانٍ ضُحَاهَا سورة النازعات آية 29: ضَوْءُهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ سورة يس آية 40: لَا يَسْتُرُ ضَوْءُ أَحَدِهِمَا ضَوْءَ الْآخَرِ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُمَا ذَلِكَ سَابِقُ النَّهَارِ سورة يس آية 40: يَتَطَالَبَانِ حَثِيثَيْنِ نَسْلَخُ نُخْرِجُ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ وَنُجْرِي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاهِيَةٌ وَهْيُهَا تَشَقُّقُهَا أَرْجَائِهَا مَا لَمْ يَنْشَقَّ مِنْهَا فَهُمْ عَلَى حَافَتَيْهَا كَقَوْلِكَ عَلَى أَرْجَاءِ الْبِئْرِ وَأَغْطَشَ سورة النازعات آية 29 وَ جَنَّ سورة الأنعام آية 76 أَظْلَمَ، وَقَالَ الْحَسَنُ كُوِّرَتْ سورة التكوير آية 1: تُكَوَّرُ حَتَّى يَذْهَبَ ضَوْءُهَا وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ سورة الانشقاق آية 17: جَمَعَ مِنْ دَابَّةٍ اتَّسَقَ سورة الانشقاق آية 18: اسْتَوَى بُرُوجًا سورة الحجر آية 16: مَنَازِلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْحَرُورُ بِالنَّهَارِ مَعَ الشَّمْسِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَرُؤْبَةُ الْحَرُورُ بِاللَّيْلِ وَالسَّمُومُ بِالنَّهَارِ يُقَالُ يُولِجُ يُكَوِّرُ وَلِيجَةً سورة التوبة آية 16 كُلُّ شَيْءٍ أَدْخَلْتَهُ فِي شَيْءٍ.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا یعنی چکی کی طرح گھومتے ہیں اور دوسرے لوگوں نے یوں کہا یعنی حساب سے مقررہ منزلوں میں پھرتے ہیں، زیادہ نہیں بڑھ سکتے۔ لفظ «حسبان» «حساب» کی جمع ہے۔ جیسے لفظ «شهاب» کی جمع «شهبان‏.‏» ہے اور سورۃ والشمس میں جو لفظ «ضحاها‏» آیا ہے۔ «ضحى» روشنی کو کہتے ہیں اور سورۃ یٰسٓ میں جو آیا ہے کہ سورج چاند کو نہیں پا سکا، یعنی ایک کی روشنی دوسرے کو ماند نہیں کر سکتی نہ ان کو یہ بات سزاوار ہے اور اسی سورۃ میں جو الفاظ «ولا الليل سابق النهار‏» ہیں ان کا مطلب یہ کہ دن اور رات ہر ایک دوسرے کے طالب ہو کر لپکے جا رہے ہیں اور اسی سورۃ میں لفظ «انسلخ» کا معنی یہ ہے کہ دن کو رات سے اور رات کو دن سے ہم نکال لیتے ہیں اور سورۃ الحاقہ میں جو «واهية» کا لفظ ہے۔ «وهي» کے منی پھٹ جانا اور اسی سورۃ میں جو یہ ہے «أرجائها» یعنی فرشتے آسمانوں کے کناروں پر ہوں گے جب تک وہ پھٹے گا نہیں۔ جیسے کہتے ہیں وہ کنویں کے کنارے پر اور سورۃ والنازعات میں جو لفظ «أغطش‏» اور سورۃ الانعام میں لفظ «جن‏» ہے ان کے معنی اندھیری کے ہیں۔ یعنی اندھیاری کی اندھیاری ہوئی اور امام حسن بصریٰ نے کہا کہ سورۃ اذالشمس میں «كورت‏» کا جو لفظ ہے اس کا معنی یہ ہے جب لپیٹ کر تاریک کر دیا جائے گا اور سورۃ انشقت میں جو «وما وسق‏» کا لفظ ہے اس کے معنی جو اکٹھا کرے۔ اسی سورۃ میں «اتسق‏» کا معنی سیدھا ہوا، اور سورۃ الفرقان میں «بروجا‏» کا لفظ «بروج‏» سورج اور چاند کی منزلوں کو کہتے ہیں اور سورۃ فاطر میں جو «حرور» کا لفظ ہے اس کے معنی دھوپ کی گرمی کے ہیں۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، «حرور» رات کی گرمی اور «سموم» دن کی گرمی۔ اور سورۃ فاطر میں جو «يولج» کا لفظ ہے اس کے معنی لپیٹتا ہے اندر داخل کرتا ہے اور سورۃ التوبہ میں جو «وليجة‏» کا لفظ ہے اس کے معنی اندر گھسا ہوا یعنی راز دار دوست۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: Q3199]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِي:" أَيْنَ تَذْهَبُ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلَا يُقْبَلَ مِنْهَا وَتَسْتَأْذِنَ فَلَا يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سورة يس آية 38.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر (دوبارہ آنے) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» (یٰسٓ: 38) میں اسی طرف اشارہ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3199]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب سورج غروب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو خوب علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سورج جاکر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے، اور وہ دن بھی قریب ہے جب یہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور اجازت طلب کرے گا لیکن اسے اجازت نہ ملے گی بلکہ اسے کہا جائے گا: جہاں سے آئے ہو ادھر چلے جاؤ تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [سورة يس: 38] یہ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، یہ عزیز و علیم کا مقرر کردہ نظام الاوقات ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن فیروز داناج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں تاریک (بے نور) ہو جائیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3200]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج اور چاند لپیٹ دیے جائیں گے۔ (یعنی وہ دونوں تاریک ہوجائیں گے۔) [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3201
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ اس لیے جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3201]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت اور پیدائش کے سبب گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، اس لیے جب تم ان دونوں کو اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کی یاد میں لگ جایا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3202]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی شخص کی موت یا پیدائش کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3202]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3203
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَكَبَّرَ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَقَامَ كَمَا هُوَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ نے خبر دی، اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ جس دن سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مصلے پر) کھڑے ہوئے۔ «الله اكبر» کہا اور بڑی دیر تک قرآت کرتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، ایک بہت لمبا رکوع، پھر سر اٹھا کر «سمع الله لمن حمده» کہا اور پہلے کی طرح کھڑے ہو گئے۔ اس قیام میں بھی لمبی قرآت کی۔ اگرچہ پہلی قرآت سے کم تھی اور پھر رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، اگرچہ پہلے رکوع سے یہ کم تھا۔ اس کے بعد سجدہ کیا، ایک لمبا سجدہ، دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا اور اس کے بعد سلام پھیرا تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا اور سورج اور چاند گرہن کے متعلق بتلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اور ان میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو فوراً نماز کی طرف لپک جاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3203]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جس روز سورج کو گرہن لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کہی اور لمبی قراءت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا۔ اس کے بعد سر مبارک اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہا۔ پھر اسی حالت میں کھڑے رہے اور لمبی قراءت فرمائی اور وہ پہلی قراءت سے کمتر تھی۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کمتر تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سجدہ کیا۔ اس کے بعد دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ اس کے بعد سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ دونوں کسی کی موت و حیات کے باعث بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم ان دونوں کو بے نور ہوتے دیکھو تو التجا کرتے ہوئے نماز کی طرف جاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3204
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3204]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سورج اور چاند کسی کے مرنے یا کسی کے پیدا ہونے کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں