🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب إذا قال أحدكم آمين. والملائكة فى السماء، فوافقت إحداهما الأخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه:
باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3229
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِكَةُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ مَا لَمْ يَقُمْ مِنْ صَلَاتِهِ أَوْ يُحْدِثْ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، ان سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص نماز کی وجہ سے جب تک کہیں ٹھہرا رہے گا اس کا یہ سارا وقت نماز میں شمار ہو گا اور ملائکہ اس کے لیے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اور اس پر اپنی رحمت نازل کر (اس وقت تک) جب تک وہ نماز سے فارغ ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائے یا بات نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري
Newعبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
مختلف في صحبته
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري
ثقة
👤←👥فليح بن سليمان الأسلمي، أبو يحيى
Newفليح بن سليمان الأسلمي ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
صدوق كثير الخطأ
👤←👥محمد بن فليح الأسلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن فليح الأسلمي ← فليح بن سليمان الأسلمي
صدوق يهم
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← محمد بن فليح الأسلمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
445
الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه الذي صلى فيه ما لم يحدث تقول اللهم اغفر له اللهم ارحمه
صحيح البخاري
3229
أحدكم في صلاة ما دامت الصلاة تحبسه والملائكة تقول اللهم اغفر له وارحمه ما لم يقم من صلاته أو يحدث
صحيح مسلم
1508
الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مجلسه تقول اللهم اغفر له اللهم ارحمه ما لم يحدث أحدكم في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه
صحيح مسلم
1511
أحدكم ما قعد ينتظر الصلاة في صلاة ما لم يحدث تدعو له الملائكة اللهم اغفر له اللهم ارحمه
سنن أبي داود
469
الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه الذي صلى فيه ما لم يحدث أو يقم اللهم اغفر له اللهم ارحمه
سنن النسائى الصغرى
734
الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه الذي صلى فيه ما لم يحدث اللهم اغفر له اللهم ارحمه
سنن ابن ماجه
799
أحدكم إذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه والملائكة يصلون على أحدكم ما دام في مجلسه الذي صلى فيه يقولون اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يحدث فيه ما لم يؤذ فيه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3229 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3229
حدیث حاشیہ:
اس سے فرشتوں کا نیک دعائیں کرنا ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3229]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3229
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہواکہ فرشتے نیکی کے کام دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اور خوش ہوکرنیکی کرنے والے کوڈھیروں دعائیں دیتے ہیں۔
جب نیکی کا سلسلہ ختم ہوجائے تو ساتھ ہی ان کی دعاؤں کا سلسلہ بھی موقوف ہوجاتا ہے۔

امام بخاری ؒ بھی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فرشتے ایسی مخلوق نہیں جنھیں ادراک و شعور نہ ہو بلکہ وہ صاحب شعور مخلوق ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3229]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 734
مسجد میں بیٹھنے اور نماز کا انتظار کرنے کی ترغیب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 734]
734 ۔ اردو حاشیہ: مسجد میں بیٹھنا ذکر کے لیے ہو گا یا اگلی نماز کے انتظار کے لیے، دونوں صورتوں میں وضو ہونا چاہیے۔ بے وضو مسجد میں ٹھہرنا زیادہ فضیلت کا باعث نہیں کیونکہ اس حالت میں آدمی فرشتوں کی دعا سے محروم رہتا ہے جو کہ ایک فضیلت سے محرومی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 734]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث799
مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 799]
اردو حاشہ:
(1)
مسجد میں جماعت کھڑی ہونے سے کافی پہلے جانا چاہیے تاکہ سنت اور نوافل وغیرہ ادا کیے جا سکیں یا ذکروتلاوت سے ثواب حاصل کیا جائے۔

(2)
فرض نماز کے انتظار میں بیٹھنے سے نماز جتنا ثواب ملتا ہے۔
اس اثناء میں کیا جانے والا ذکر اور پڑھے جانے والے نوافل مزید ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔

(3)
فرض نماز ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر بیٹھ کر مسنون اوراد و وظائف میں مشغول رہنا بہت زیادہ اجر وثواب کا کام ہے۔

(4)
باوضو رہنا ثواب اور فضیلت کا باعث ہے۔

(5)
بو سے جس طرح انسان کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح فرشتے بھی اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں اس لیے بو پیدا ہونے کے بعد فرشتے نمازی کے حق میں دعا کرنا بند کردیتے ہیں۔

(6)
جب تک تکلیف نہ دے اس کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ زبان سے نا مناسب بات کہہ کر کسی نمازی کو تکلیف نہ دے۔
بے وضو ہوجانے کی بو سے بھی نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہےممکن ہے یہی مراد ہو۔
 واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 799]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:445
445. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تم اپنے مصلے پر رہو جہاں تم نے نماز پڑھی تھی اور ریاح بھی خارج نہ کرو تو ملائکہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فر دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:445]
حدیث حاشیہ:

اس جگہ حدث سے مراد حدث اصغر (بے وضو ہونا)
ہے حدث اکبر، یعنی جنابت وغیرہ مراد نہیں, حضرت ابوہریرہ ؓ نے مذکورہ روایت میں حدث سے یہی مراد لیا ہے۔
(حدیث 176)
بعض نے کہا ہے کہ یہاں عام معنی مراد ہے، یعنی جب تک وہاں کوئی تکلیف دہ معاملہ نہ کرے۔
چنانچہ حدیث مسلم سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔
جب تک بے وضو نہ ہو، جب تک کسی کو تکلیف نہ دے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 506 (649)
لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ریح کا خارج کرنا ہے جو دوسروں کی تکلیف کا باعث بنتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جب تک وہ حدث کے ذریعے سے کسی دوسرے کی تکلیف کا باعث نہ بنے۔
(صحیح البخاري،الصلاة، حدیث: 477)

یہ فضیلت ہر اس شخص کے لیے ہے جو نماز ادا کرکے دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہتا ہے۔
اپنے گھر نہیں جاتا، اس لیے مصلی سے مراد جائے سجود ہی نہیں بلکہ تمام مسجد ہے۔
جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ انسان اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ دوسری نماز کے انتظار میں ہے، اس لیے دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔
(فتح الباري: 1/697)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ مسجد میں ریح کا خارج کرنا تھوکنے سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ مسجد میں تھوکنے کا کفارہ بیان ہوا ہے کہ اس کو دفن کردیا جائے۔
لیکن اس کا کوئی کفارہ نہیں، بلکہ فرشتوں کی دعائے رحمت سے بھی اسے محروم کردیا جاتا ہے۔
(فتح الباري: 1/697)
لیکن یہ سنگین جرم اس صورت میں قراردیا جائے گا جب حدث سے مراد کوئی گناہ یا بدعت کا ارتکاب ہو، بصورت دیگر اسے سنگین جرم قراردینا صحیح نہیں، اگرچہ اس فعل سے فرشتوں کی دعا حاصل نہیں ہوتی۔
بہر حال مسجد میں یہ فعل خلاف اولیٰ ضرور ہے حرام یا ناجائز نہیں۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 445]