🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب التيمم للوجه والكفين:
باب: اس بارے میں کہ تیمم میں صرف منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرنا کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ عُمَرَ، وَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَقَالَ:" تَفَلَ فِيهِمَا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم کے واسطہ سے حدیث بیان کی، وہ ذر بن عبداللہ سے، وہ ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، وہ اپنے والد سے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم ایک لشکر میں گئے ہوئے تھے۔ پس ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ اور (اس میں ہے کہ بجائے «نفخ فيهما‏» کے) انہوں نے «تفل فيهما‏» کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظانصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي، أبو سعيد، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← عمار بن ياسر العنسي
صحابي
👤←👥سعيد بن عبد الرحمن الخزاعي
Newسعيد بن عبد الرحمن الخزاعي ← عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي
ثقة
👤←👥ذر بن عبد الله المرهبي، أبو عمرو، أبو عمر
Newذر بن عبد الله المرهبي ← سعيد بن عبد الرحمن الخزاعي
ثقة
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← ذر بن عبد الله المرهبي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة إمام حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 340 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:340
حدیث حاشیہ:

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی شرح تراجم بخاری لکھتے ہیں کہ امام بخاری ؓ کا مذہب اس مسئلے میں وہی ہے جو اصحاب ظواہر اور بعض مجتہدین کا ہے کہ تیمم چہرے اور ہتھیلیوں کا ہونا چاہیے کہنیوں تک کی قید ضروری نہیں، حالانکہ جمہور اس کے خلاف ہیں۔
اصحاب ظواہر کا مسلک یہ ہے کہ تیمم میں مسح کفین تک ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ کا بھی یہی موقف ہے۔
امام بخاری ؒ پیش کردہ روایات سے اسی موقف کی تائید فرما رہے ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ امام بخاری ؒ کے موقف کی بایں الفاظ وضاحت کرتے ہیں:
واجب یہی ہے کہ تیمم میں صرف ہتھیلیوں اور چہرے کا مسح کیا جائے۔
امام بخاری نے صیغہ جزم کے ساتھ عنوان بندی کی ہے۔
حالانکہ اس میں اختلاف مشہور ہے۔
کیونکہ امام بخاری اس کے لیے بڑی مضبوط دلیل رکھتے ہیں، صفت تیمم کے متعلق جس قدر احادیث منقول ہیں، ان میں صرف ابو جہیم ؓ اور حضرت عمار ؓ کی احادیث صحیح ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر احادیث ضعیف ہیں یا ان کے موقوف یا مرفوع ہونے میں اختلاف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ وہ موقوف ہیں۔
حضرت ابو جہیم کی حدیث میں ہاتھوں کا ذکر مجمل طور پرآیا ہے اور حضرت عمار ؓ کی حدیث میں ہتھیلیوں کا ذکر ہے۔
جیسے صحیحین میں بیان کیا گیا ہے، البتہ کہنیوں نصف کلائی اور بغلوں کا ذکرکتب سنن میں ہے، جن روایات میں نصف کلائی یا کہنیوں کا ذکر ہے ان میں تو بہت کلام کیا گیا ہے، البتہ جن روایات میں بغلوں کا ذکر ہے، اس کے متعلق امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت ہے تو آپ کے عملی طریقے نے اسے منسوخ کردیا ہے اور اگر آپ کے حکم سے ایسا کرنا ثابت نہیں تو وہ دلیل کیونکر بن سکتا ہے۔
صحیحین کی روایت میں جو ہتھیلیوں اور چہرے پر اکتفاکیا گیا ہے اس کی تائید حضرت عمار ؓ کے فتوی سے بھی ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرنے کا فتوی دیتے تھے۔
حدیث کا راوی حدیث کی مراد کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ مجتہد بھی ہو۔
(فتح الباري: 576)
امام ترمذی ؒ نے بعض اہل علم کے حوالے سے لکھا ہے کہ حدیث عمار اضطراب کی وجہ سے قابل حجت نہیں ہے، کیونکہ اس کے بعض طرق میں کندھوں اور بغلوں تک مسح کرنے کا ذکر ہے۔
امام بخاری ؒ نے اپنے مختلف چھ مشائخ سے بیان کر کے ثابت کیا ہے کہ ہتھیلیوں اور چہرے کے مسح والی روایت بہ نسبت دوسری روایات کے راجح ہے اور جس روایت میں کندھوں اور بغلوں کا ذکر ہے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 318)
اس کا جواب امام ترمذیؒ نے بایں الفاظ نقل کیا ہے کہ وہ چہرے اور ہتھیلیوں والی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ حضرت عمار ؓ یہ نہیں کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تھا تو آپ نے صرف ہتھیلیوں اور چہرےپر مسح کرنے کا حکم دیا۔
پھر حضرت عمار ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد بھی فتوی دیتےتھے کہ تیمم کرتے وقت ہتھیلیوں اور چہرے ہی کا مسح کیا جائے۔
(جامع الترمذي، الطهارة، حدیث: 144)

حضرت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے تیمم کے متعلق سوال کیا تو آپ نے کہا:
اللہ تعالیٰ نے وضو کے متعلق فرمایا ہے:
﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ﴾تم اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھوؤو۔
(المائدة: 5۔
6)
اور تیمم کے متعلق فرمایا ہے:
﴿ فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ﴾ اپنے شہرے اور ہاتھوں کا پاک مٹی سے مسح کرو۔
(المائدة: 38/5)
چور کے ہاتھ کاٹنے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ چوری کرنے والا مرد یا عورت اس کے ہاتھ کاٹ دو۔
(المائدة: 38/5)
سنت نے اس کی وضاحت کی ہے کہ چوری میں ہتھیلیوں کو کاٹا جائے، اسی طرح تیمم کے سلسلے میں بھی وضاحت ہے کہ صرف ہاتھ اور ہتھیلیوں کا مسح کیا جائے۔
(جامع الترمذي، الطهارة، حدیث: 144)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 340]