یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب نزل القرآن بلسان قريش:
باب: قرآن کا قریش کی زبان میں نازل ہونا۔
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ" لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا ذَلِكَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو بلایا (اور ان کو قرآن مجید کی کتابت پر مقرر فرمایا، چنانچہ ان حضرات نے) قرآن مجید کو کئی مصحفوں میں نقل فرمایا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے (ان چاروں میں سے) تین قریشی صحابہ سے فرمایا تھا کہ جب آپ لوگوں کا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے) قرآن کے کسی مقام پر (اس کے کسی محاورے میں) اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن شریف قریش کے محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3506]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمان بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے قرآن مجید کو مصاحف میں نقل فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین قریشی صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا: جب تمہارا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قرآن کے کسی مقام کے متعلق اختلاف ہو جائے تو اسے محاورہ قریش کے مطابق لکھیں کیونکہ قرآن کریم انہی کے محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر أنس بن مالك الأنصاري ← عثمان بن عفان | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق إبراهيم بن سعد الزهري ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حجة | |
👤←👥عبد العزيز بن عبد الله الأويسي، أبو القاسم عبد العزيز بن عبد الله الأويسي ← إبراهيم بن سعد الزهري | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3506 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3506
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ کہ قرآن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں تمام صحابہ کے اتفاق سے جمع ہوچکا تھا، وہی قرآن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان کے پاس رہا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہی قرآن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے منگوا کر اس کی نقلیں مذکورہ بالا لوگوں سے لکھوائیں اور ایک ایک نقل عراق، مصر، شام اور ایران وغیرہ ملکوں میں روانہ کردیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جو جامع قرآن کہتے ہیں وہ اسی وجہ سے کہ انہوں نے قرآن کی نقلیں صاف خطوں سے لکھوا کر ملکوں میں روانہ کیں، یہ نہیں کہ قرآن ان کے وقت میں جمع ہوا، قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی جمع ہوچکا تھا جو کچھ متفرق رہ گیا تھا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سب ایک جگہ جمع کردیا گیا۔
یہاں باب کا مقصد قریش کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ قرآن مجید ان کے محاورے کے مطابق نازل ہوا۔
ہوا یہ کہ قرآن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں تمام صحابہ کے اتفاق سے جمع ہوچکا تھا، وہی قرآن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان کے پاس رہا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہی قرآن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے منگوا کر اس کی نقلیں مذکورہ بالا لوگوں سے لکھوائیں اور ایک ایک نقل عراق، مصر، شام اور ایران وغیرہ ملکوں میں روانہ کردیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جو جامع قرآن کہتے ہیں وہ اسی وجہ سے کہ انہوں نے قرآن کی نقلیں صاف خطوں سے لکھوا کر ملکوں میں روانہ کیں، یہ نہیں کہ قرآن ان کے وقت میں جمع ہوا، قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی جمع ہوچکا تھا جو کچھ متفرق رہ گیا تھا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سب ایک جگہ جمع کردیا گیا۔
یہاں باب کا مقصد قریش کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ قرآن مجید ان کے محاورے کے مطابق نازل ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3506]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3506
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود قریشی تھے اورآپ پر قرآن مجید کا نزول اسی مادری زبان کے مطابق ہواتھا تاکہ پہلے آپ خود اسے بخوبی سمجھیں، پھر دوسرے لوگوں کو احسن طریقے سے سمجھا سکیں۔
2۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلکھوانے سے پہلے قرآن مجید لکھا ہوا موجودتھا اور اس کانسخہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس موجود تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں پیغام بھیجا کہ وہ قرآنی صحیفے بھیج دیں جو ان کے پاس ہیں، ہم مصاحف لکھنے کے بعد انھین واپس کردیں گے، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن کریم کی نقلیں تیار کرواکر اطراف عالم میں بھیج دیں۔
قرآن مجید لکھنے کی ہدایت کی اور فرمایا:
اگرتمہارا کہیں قرآنی رسم الخط کے متعلق اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کے محاورے کے مطابق تحریرکرنا، چنانچہ ان کا لفظ تابوت کے متعلق اختلاف ہوا۔
حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے تابوۃ لکھنا چاہتے تھے جبکہ قریش کے ہاں اس کا رسم الخط تابوت تھا، تو اسی محاورے کے مطابق لکھا گیا۔
3۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے قریش کی فضیلت ثابت کی ہے۔
انھوں نے کتاب الفضائل القرآن میں بھی اس حدیث پر اسی قسم کا عنوان قائم کیا ہے:
قرآن قریش اور عرب کے محاورے کے مطابق نازل ہوا۔
(فتح الباري: 659/6)
مصاحف لکھنے کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صحیفہ واپس کر دیا گیا اور باقی ذاتی قسم کے صحائف جلادیے گئے۔
(عمدة القاري: 257/11)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود قریشی تھے اورآپ پر قرآن مجید کا نزول اسی مادری زبان کے مطابق ہواتھا تاکہ پہلے آپ خود اسے بخوبی سمجھیں، پھر دوسرے لوگوں کو احسن طریقے سے سمجھا سکیں۔
2۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلکھوانے سے پہلے قرآن مجید لکھا ہوا موجودتھا اور اس کانسخہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس موجود تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں پیغام بھیجا کہ وہ قرآنی صحیفے بھیج دیں جو ان کے پاس ہیں، ہم مصاحف لکھنے کے بعد انھین واپس کردیں گے، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن کریم کی نقلیں تیار کرواکر اطراف عالم میں بھیج دیں۔
قرآن مجید لکھنے کی ہدایت کی اور فرمایا:
اگرتمہارا کہیں قرآنی رسم الخط کے متعلق اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کے محاورے کے مطابق تحریرکرنا، چنانچہ ان کا لفظ تابوت کے متعلق اختلاف ہوا۔
حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے تابوۃ لکھنا چاہتے تھے جبکہ قریش کے ہاں اس کا رسم الخط تابوت تھا، تو اسی محاورے کے مطابق لکھا گیا۔
3۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے قریش کی فضیلت ثابت کی ہے۔
انھوں نے کتاب الفضائل القرآن میں بھی اس حدیث پر اسی قسم کا عنوان قائم کیا ہے:
قرآن قریش اور عرب کے محاورے کے مطابق نازل ہوا۔
(فتح الباري: 659/6)
مصاحف لکھنے کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صحیفہ واپس کر دیا گیا اور باقی ذاتی قسم کے صحائف جلادیے گئے۔
(عمدة القاري: 257/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3506]
Sahih Bukhari Hadith 3506 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← عثمان بن عفان