علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3903
حَدَّثَنِي مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ , وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
مجھ سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3903
| مكث رسول الله بمكة ثلاث عشرة توفي وهو ابن ثلاث وستين |
صحيح مسلم |
6096
| مكث بمكة ثلاث عشرة توفي وهو ابن ثلاث وستين |
جامع الترمذي |
3652
| مكث النبي بمكة ثلاث عشرة سنة يعني يوحى إليه توفي وهو ابن ثلاث وستين سنة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3903 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3903
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس ؓ سے جب ان کے شاگرد عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں توان کے الفاظ یہ ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں وحی نازل ہونے کے بعد پندرہ برس اقامت فرمائی ان میں سے سات سال تک آپ روشنی اور نوردیکھتے رہے،نیز غائبانہ آواز سنتے رہے، پھر آٹھ برس مسلسل وحی کا سلسلہ جاری رہا۔
“ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6401(2353)
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ آپ نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال تک مکہ مکرمہ رہے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
(فتح الباري: 287/7)
حضرت ابن عباس ؓ سے جب ان کے شاگرد عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں توان کے الفاظ یہ ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں وحی نازل ہونے کے بعد پندرہ برس اقامت فرمائی ان میں سے سات سال تک آپ روشنی اور نوردیکھتے رہے،نیز غائبانہ آواز سنتے رہے، پھر آٹھ برس مسلسل وحی کا سلسلہ جاری رہا۔
“ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6401(2353)
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ آپ نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال تک مکہ مکرمہ رہے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
(فتح الباري: 287/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3903]
Sahih Bukhari Hadith 3903 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي