یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3918
قَالَ الْبَرَاءُ: فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ عَلَى أَهْلِهِ فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا، وَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟".
براء نے بیان کیا کہ جب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تھا تو آپ کی صاحبزادی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ رہا تھا میں نے ان کے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور دریافت کیا بیٹی! طبیعت کیسی ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3918]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر گیا تو ان کی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں، انہیں سخت بخار تھا۔ میں نے ان کے والد کو دیکھا، انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور فرمایا: ”پیاری بیٹی! تمہاری طبیعت کیسی ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3918 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3918
حدیث حاشیہ:
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل ومناقب میں یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ سفر ہجرت میں آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فدا کار انہ ساتھ دیا اور آپ کی ہر ممکن خدمت انجام دی۔
جس کے صلہ میں قیامت تک کے لئے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یار غار کہا گیا ہے حقیقت یہ کہ آپ کو تمام صحابہ ؓ پر ایسی فوقیت حاصل ہے جیسی چاند کو آسمان کے تمام ستاروں پر حاصل ہے۔
وہ نام نہاد مسلمان بڑے ہی بد بخت ہیں جو ایسے سچے پختہ مومن مسلمان صحابی رسول کو برا کہتے ہیں اورتبراّ بازی سے اپنی زبانوں کو گندی کرتے ہیں۔
جب تک اس دنیا میں اسلام زندہ ہے حضرت صدیق اکبر ؓ کانام نامی اسلام کے ساتھ زندہ رہے گا۔
اللہ نے آپ کی خدمات جلیلہ کایہ صلہ آپ رضی اللہ عنہ کو بخشا کہ قیامت تک کے لئے آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں گنبد خضرا میں آرام فرما رہے ہیں۔
اللہ پاک ہماری طرف سے ان کی پاک روح پر بے شمار سلام اور رحمتیں نازل فرمائے اور قیامت کے دن اپنے حبیب کے ساتھ آپ کے جملہ فدائیوں کی ملاقات نصیب کرے۔
آمین یا رب العالمین۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل ومناقب میں یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ سفر ہجرت میں آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فدا کار انہ ساتھ دیا اور آپ کی ہر ممکن خدمت انجام دی۔
جس کے صلہ میں قیامت تک کے لئے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یار غار کہا گیا ہے حقیقت یہ کہ آپ کو تمام صحابہ ؓ پر ایسی فوقیت حاصل ہے جیسی چاند کو آسمان کے تمام ستاروں پر حاصل ہے۔
وہ نام نہاد مسلمان بڑے ہی بد بخت ہیں جو ایسے سچے پختہ مومن مسلمان صحابی رسول کو برا کہتے ہیں اورتبراّ بازی سے اپنی زبانوں کو گندی کرتے ہیں۔
جب تک اس دنیا میں اسلام زندہ ہے حضرت صدیق اکبر ؓ کانام نامی اسلام کے ساتھ زندہ رہے گا۔
اللہ نے آپ کی خدمات جلیلہ کایہ صلہ آپ رضی اللہ عنہ کو بخشا کہ قیامت تک کے لئے آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں گنبد خضرا میں آرام فرما رہے ہیں۔
اللہ پاک ہماری طرف سے ان کی پاک روح پر بے شمار سلام اور رحمتیں نازل فرمائے اور قیامت کے دن اپنے حبیب کے ساتھ آپ کے جملہ فدائیوں کی ملاقات نصیب کرے۔
آمین یا رب العالمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3918]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3918
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت ابو بکر ؓ کے فضائل و مناقب میں یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ سفر ہجرت میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فدا کا رانہ ساتھ دیا اور آپ کی ہر ممکن خدمت کی۔
اس کے صلے میں قیامت تک کے لیے آپ کو”یار غار“ کا لقب ملا۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو چاند کو تمام ستاروں پر ہے۔
زندگی کے بعد بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں محواستراحت ہیں۔
رضي اللہ عنه و أرضاه 2۔
اس حدیث میں حضرت براء بن عازب ؓ کے متعلق آیا ہے کہ وہ حضرت ابو بکر ؓ کے گھر میں داخل ہوئے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ کو دیکھا یقیناً یہ واقعہ نزول حجاب سے پہلے کا ہے اور حضرت عائشہ ؓ اس وقت نابالغہ تھیں اور وہ بھی اس وقت حد بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔
3۔
امام بخاری ؒ نے حضرت عائشہ ؓ کی بیماری کا ذکر صرف اس مقام پر کیا ہے، حالانکہ صحیح بخاری میں متعدد مرتبہ سفر ہجرت بیان ہوا ہے۔
(فتح الباري: 321/7)
1۔
حضرت ابو بکر ؓ کے فضائل و مناقب میں یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ سفر ہجرت میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فدا کا رانہ ساتھ دیا اور آپ کی ہر ممکن خدمت کی۔
اس کے صلے میں قیامت تک کے لیے آپ کو”یار غار“ کا لقب ملا۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو چاند کو تمام ستاروں پر ہے۔
زندگی کے بعد بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں محواستراحت ہیں۔
رضي اللہ عنه و أرضاه 2۔
اس حدیث میں حضرت براء بن عازب ؓ کے متعلق آیا ہے کہ وہ حضرت ابو بکر ؓ کے گھر میں داخل ہوئے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ کو دیکھا یقیناً یہ واقعہ نزول حجاب سے پہلے کا ہے اور حضرت عائشہ ؓ اس وقت نابالغہ تھیں اور وہ بھی اس وقت حد بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔
3۔
امام بخاری ؒ نے حضرت عائشہ ؓ کی بیماری کا ذکر صرف اس مقام پر کیا ہے، حالانکہ صحیح بخاری میں متعدد مرتبہ سفر ہجرت بیان ہوا ہے۔
(فتح الباري: 321/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3918]
Sahih Bukhari Hadith 3918 in Urdu