🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب فضل استقبال القبلة:
باب: قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا نُعَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَذَبَحُوا ذَبِيحَتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"،
ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ ابن مبارک نے حمید طویل کے واسطہ سے، انہوں نے روایت کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں۔ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں اور ہمارے قبلہ کی طرف نماز میں منہ کریں اور ہمارے ذبیحہ کو کھانے لگیں تو ان کا خون اور ان کے اموال ہم پر حرام ہو گئے۔ مگر کسی حق کے بدلے اور (باطن میں) ان کا حساب اللہ پر رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 392]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کلمہ طیبہ کے قائل ہونے تک لوگوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر جب وہ اس کلمہ طیبہ کے قائل ہو جائیں، ہماری طرح نماز ادا کرنے لگیں، ہمارے قبلے کی طرف منہ کریں اور ہمارے ذبیحے کو کھائیں تو اس وقت ہم پر ان کے خون اور مال حرام ہو جائیں گے مگر حق (اسلام) کی صورت میں ان کی جان و مال سے تعرض درست ہو گا، باقی ان کا حساب اللہ کے حوالے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥نعيم بن حماد الخزاعي، أبو عبد الله
Newنعيم بن حماد الخزاعي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
صدوق يخطئ كثيرا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 392 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:392
حدیث حاشیہ:

اس سے پہلی روایت میں تھا کہ جو شخص تین چیزوں کو بجالاتاہے، اس سے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد قائم ہوجاتاہے۔
اس روایت میں کلمہ طیبہ کے اقرار کا اضافہ ہے اور اس عہد کی تشریح اور وضاحت بھی ہے جو پہلی حدیث میں قائم ہواتھا کہ ایسے شخص کے مال وجان کے بلاوجہ درپے ہونا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد (ذمے)
میں دخل اندازی کرنا ہے۔
ہاں اگرایسے شخص پر مال یا جان کا تاوان یا قصاص واجب ہوتو وہ اس سے ضرور وصول کیا جائےگا اور ایسا کرنا ذمے اور عہد کے خلاف نہیں ہوگا۔

اس روایت میں حمید طویل حضرت انس ؓ سے بصیغہ عن بیان کرتے ہیں۔
اس طرح سند میں عنعنة آجائے تواشتباہ پیدا ہوجاتا ہے۔
امام بخاری ؒ اس کے بعد ایک سند لاکر اس اشتباہ کو ختم کرتے ہیں، کیونکہ اس میں تحدیث کی تصریح ہے، بلکہ اگلی روایت میں مزید وضاحت کردی کہ واقعی حمید الطویل نے حضرت انس ؓ سے بلاواسطہ اس حدیث کو بیان کیا ہے، کیونکہ ان کی موجودگی میں حضرت میمون بن سیاہ نے حضرت انس ؓ سے سوال کیا، چنانچہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 392]

Sahih Bukhari Hadith 392 in Urdu