صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3954
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 عَنْ بَدْرٍ وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبدالکریم نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن حارث کے مولیٰ مقسم سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ (سورۃ نساء کی اس آیت سے) «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» جہاد میں شرکت کرنے والے اور اس میں شریک نہ ہونے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ لوگ مراد ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور جو اس میں شریک نہیں ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3954]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] کے متعلق فرمایا: ”مومنین میں سے جہاد سے بیٹھ رہنے والے (اور جہاد میں شرکت کرنے والے) برابر نہیں ہیں۔“ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور جو اس میں شریک نہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8796
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8796
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3954 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3954
حدیث حاشیہ:
1۔
اس آیت کریمہ میں اصحاب بدر کی بزرگی اور فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان کے مرتبے اور مقام کو کوئی نہیں پاسکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے فرمایا:
”اے اہل بدر!تم جوچاہو کرو تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔
“ (صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 3983)
2۔
حضرت ابن عباس ؓ کی مراد یہ ہے کہ مذکورہ آیت غزوہ بدر میں نازل ہوئی۔
امام بخاری ؒ کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو غزوہ بدر میں بیان کیا ہے جبکہ دوسرے حضرات کا خیال ہے کہ مذکورہ آیت صرف اہل بدر کے متعلق نہیں بلکہ اس میں ایک قاعدہ بیان ہواہے جو اہل بدر کو بھی شامل ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس آیت کریمہ میں اصحاب بدر کی بزرگی اور فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان کے مرتبے اور مقام کو کوئی نہیں پاسکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے فرمایا:
”اے اہل بدر!تم جوچاہو کرو تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔
“ (صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 3983)
2۔
حضرت ابن عباس ؓ کی مراد یہ ہے کہ مذکورہ آیت غزوہ بدر میں نازل ہوئی۔
امام بخاری ؒ کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو غزوہ بدر میں بیان کیا ہے جبکہ دوسرے حضرات کا خیال ہے کہ مذکورہ آیت صرف اہل بدر کے متعلق نہیں بلکہ اس میں ایک قاعدہ بیان ہواہے جو اہل بدر کو بھی شامل ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3954]
Sahih Bukhari Hadith 3954 in Urdu
مقسم بن بجرة ← عبد الله بن العباس القرشي