صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3969
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ , حَمْزَةَ , وَعَلِيٍّ , وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ , وَعُتْبَةَ , وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ , وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم (مسلمانوں کی طرف سے) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ (کافروں کی طرف سے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3969]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قسم اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا“ ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کی لڑائی میں ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے نکلے تھے، یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے اور عتبہ، شیبہ، جو ربیعہ کے بیٹے تھے، نیز ولید بن عتبہ کفار کی طرف سے (نکلے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3969]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3969 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3969
حدیث حاشیہ:
1۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آیت کریمہ میں مبارزت سے مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔
لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ مذکورہ مخاصمت بدر کے دن مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہوئی تھی۔
چنانچہ حضرت ابوذر ؓ نے قسم اٹھا کر کہا کہ مذکورہ آیت کریمہ ان چارشخصوں کےبارے میں نازل ہوئی جنھوں نے بدر کی جنگ میں اپنی اپنی صفوں سے باہرآکر مقابلہ کیا تھا۔
2۔
ان میں سے حضرت علی ؓ اور ولید بن عتبہ تونوجوان تھے باقی چاروں پختہ عمر کے تھے۔
واللہ اعلم۔
1۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آیت کریمہ میں مبارزت سے مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔
لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ مذکورہ مخاصمت بدر کے دن مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہوئی تھی۔
چنانچہ حضرت ابوذر ؓ نے قسم اٹھا کر کہا کہ مذکورہ آیت کریمہ ان چارشخصوں کےبارے میں نازل ہوئی جنھوں نے بدر کی جنگ میں اپنی اپنی صفوں سے باہرآکر مقابلہ کیا تھا۔
2۔
ان میں سے حضرت علی ؓ اور ولید بن عتبہ تونوجوان تھے باقی چاروں پختہ عمر کے تھے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3969]
Sahih Bukhari Hadith 3969 in Urdu
قيس بن عباد القيسي ← أبو ذر الغفاري