🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4012
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" , قُلْتُ لِسَالِمٍ فَتُكْرِيهَا أَنْتَ، قَالَ: نَعَمْ إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ ان کے دو چچاؤں (ظہیر اور مظہر رافع بن عدی بن زید انصاری کے بیٹوں) جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ میں نے سالم سے کہا لیکن آپ تو کرایہ پر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر زیادتی کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← رافع بن خديج الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥جويرية بن أسماء الضبعي، أبو أسماء، أبو مخراق، أبو مخارق
Newجويرية بن أسماء الضبعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الضبعي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو عبيد
Newعبد الله بن محمد الضبعي ← جويرية بن أسماء الضبعي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4012 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4012
حدیث حاشیہ:
کہ انہوں نے زمین کو مطلق کرایہ پر دینا منع سمجھا۔
حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے منع فرمایا تھا وہ زمین ہی کی پیدا وار پر کرایہ کو دینے سے یعنی مخصوص قطعہ کی بٹائی سے منع فرمایا تھا۔
لیکن نقدی ٹھہراؤسے آپ نے منع نہیں فرمایا وہ درست ہے۔
اس کی بحث کتاب المزارعہ میں گزرچکی ہے۔
حدیث میں بدری صحابیوں کا ذکر ہے۔
علامہ قسطلانی لکھتے ہیں وکانوا یکرون الأرض بما ینبت فیھا علی الأربعاء وھو النھر الصغیر أو شيئ لیستثنیه صاحب الأرض من المزارع لأجله فنھی رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم عن ذلك لما فیه من الجھل (قسطلانی)
یعنی اہل عرب زمین کو بایں طور کرایہ پر دیتے کہ نالیوں کے پاس والی زراعت کو یا خاص خاص قطعات ارضی کو اپنے لیے خاص کر لیتے اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4012]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4012
حدیث حاشیہ:

حضرت رافع ؓ کے دونوں چچا ظہیر اور مظہرہیں جو رافع بن عدی بن یزید انصاری کے بیٹے ہیں۔
یہ دونوں غزوہ بدر میں شریک تھے جیسا کہ روایت میں صراحت ہے لیکن علامہ دمیاطی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں غزوہ احد میں شریک تھے۔
انھوں نے ابن سعد کی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے ایسا کہا ہے حالانکہ ان کا غزوہ بدر میں شریک ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے۔
ان کا انکار مبنی بر حقیقت نہیں۔
(فتح الباري: 400/7)

مزارعت اور ٹھیکے کے متعلق مکمل بحث کتاب البیوع میں گزر چکی ہے۔
ایک مخصوص حصے کی پیداوار لینے پر زمین کرائے پر دینا منع ہے لیکن پیسوں کے عوض کرائے پر زمین لینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا، چونکہ پہلی قسم باعث اختلاف ہو سکتی تھی۔
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمادیا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4012]