یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب حديث بني النضير:
باب: بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ:سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ:" قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ". تَابَعَهُ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ.
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے کہا، ”سورۃ الحشر“ تو انہوں نے کہا کہ اسے ”سورۃ نضیر“ کہو (کیونکہ یہ سورت بنو نضیر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے) اس روایت کی متابعت ہشیم سے ابوبشر نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4029]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: یہ سورۃ الحشر ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”اسے سورہ نضیر کہو۔““ ہشام نے ابوبشر سے روایت کرنے میں ابوعوانہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4029 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4029
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس ؓ اسے دواسباب کی بنا پر سورہ حشر کہنے سے گریز کرتے تھے:
۔
مسلمانوں میں حشر سے مراد حشر آخرت مشہور ہے جبکہ اس میں اول حشر سے مراد اخراج بنونضیر ہے۔
۔
سورہ حشر کہنے سے ابہام رہتا ہے جبکہ سورہ بنونضیر کے نام سے اصل واقعے کی طرف اشارہ ہوجاتا ہے۔
لیکن تمام قراء نے اس سورت کا یہی نام تجویز کیا ہے اور اسی نام سے یہ سور مشہور ہے، پھر نام رکھنے میں لغوی معنی بھی ملحوظ نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ اس سورت کا مذکورہ نام حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔
(فتح الباری: 416/7)
حضرت ابن عباس ؓ اسے دواسباب کی بنا پر سورہ حشر کہنے سے گریز کرتے تھے:
مسلمانوں میں حشر سے مراد حشر آخرت مشہور ہے جبکہ اس میں اول حشر سے مراد اخراج بنونضیر ہے۔
سورہ حشر کہنے سے ابہام رہتا ہے جبکہ سورہ بنونضیر کے نام سے اصل واقعے کی طرف اشارہ ہوجاتا ہے۔
لیکن تمام قراء نے اس سورت کا یہی نام تجویز کیا ہے اور اسی نام سے یہ سور مشہور ہے، پھر نام رکھنے میں لغوی معنی بھی ملحوظ نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ اس سورت کا مذکورہ نام حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔
(فتح الباری: 416/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4029]
Sahih Bukhari Hadith 4029 in Urdu
هشيم بن بشير السلمي ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري