🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب: {ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا يغشى طائفة منكم وطائفة قد أهمتهم أنفسهم يظنون بالله غير الحق ظن الجاهلية يقولون هل لنا من الأمر من شيء قل إن الأمر كله لله يخفون فى أنفسهم ما لا يبدون لك يقولون لو كان لنا من الأمر شيء ما قتلنا هاهنا قل لو كنتم فى بيوتكم لبرز الذين كتب عليهم القتل إلى مضاجعهم وليبتلي الله ما فى صدوركم وليمحص ما فى قلوبكم والله عليم بذات الصدور} :
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”پھر اس نے اس غم کے بعد تمہارے اوپر راحت یعنی غنودگی نازل کی کہ اس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی کہ اسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، یہ اللہ کے بارے میں خلاف حق اور جاہلیت کے خیالات قائم کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ کیا ہم کو بھی کچھ اختیار ہے؟ آپ کہہ دیجئیے کہ اختیار تو سب اللہ کا ہے، یہ لوگ دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہمارا اختیار چلتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، آپ کہہ دیجئیے کہ اگر تم گھروں میں ہوتے تب بھی وہ لوگ جن کے لیے قتل مقدر ہو چکا تھا، اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل ہی پڑتے اور یہ سب اس لیے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی آزمائش کرے اور تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کرے اور اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4068
وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ تَغَشَّاهُ النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ، حَتَّى سَقَطَ سَيْفِي مِنْ يَدِي مِرَارًا، يَسْقُطُ وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ فَآخُذُهُ.
اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں غزوہ احد کے موقع پر اونگھ نے آ گھیرا تھا اور اسی حالت میں میری تلوار کئی مرتبہ (ہاتھ سے چھوٹ کر بے اختیار) گر پڑی تھی۔ میں اسے اٹھا لیتا، پھر گر جاتی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4068]
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ان لوگوں میں سے تھا جن کو غزوہ اُحد میں اونگھ نے آ دبایا حتی کہ تلوار میرے ہاتھ سے کئی مرتبہ گری۔ وہ گرتی میں اسے تھام لیتا، پھر گرتی تو میں اسے پکڑ لیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4068 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4068
حدیث حاشیہ:

جنگ کے دوران میں اونگھ کا طاری ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور امن کا پیغام تھا کیونکہ اونگھ بے خوف شخص کو آتی ہے خوف و ہراس میں مبتلا انسان کو نیند نہیں آتی۔
اتنے شدیدغموں اور پریشانیوں کے بعد مسلمانوں پر اونگھ کا طاری ہونا اللہ کی طرف سے ایک نعمت غیر مترقبہ اور غیرمعمولی امداد تھی۔

اونگھ سے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے۔
اس سے بدن کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور غم یکدم بھول جاتے ہیں البتہ منافقین ایسے حالات میں بہت پریشان تھے۔
وہ کہتے پھرتے:
اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ عمل دخل ہوتا تو یہاں نہ مارے جاتے۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث: 4645۔
(1791)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4068]

Sahih Bukhari Hadith 4068 in Urdu