یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب القضاء واللعان فى المسجد بين الرجال والنساء:
باب: مسجد میں فیصلے کرنا اور مردوں اور عورتوں (خاوند، بیوی) کے درمیان لعان کرانا (جائز ہے)۔
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ؟ فَتَلَا عَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا شَاهِدٌ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو ابن جریج نے، کہا ہمیں ابن شہاب نے سہل بن سعد ساعدی سے کہ ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ! اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو (بدفعلی کرتے ہوئے) دیکھتا ہے، کیا اسے مار ڈالے؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي | ثقة حافظ | |
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا يحيى بن موسى الحداني ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
423
| رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتلا عنا في المسجد وأنا شاهد |
سنن ابن ماجه |
2066
| رجلا وجد مع امرأته رجلا فقتله أيقتل به أم كيف يصنع فسأل عاصم رسول الله عن ذلك فعاب رسول الله المسائل ثم لقيه عويمر فسأله فقال ما صنعت فقال صنعت أنك لم تأتني بخير سألت رسو |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 423 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:423
حدیث حاشیہ:
1۔
مقدمات کے فیصلے کے لیے اگر دارالقضاء علیحدہ تعمیر شدہ نہیں ہے تو مسجد میں فیصلے کرنے کے لیے بیٹھنا مسلمانوں کا قدیم عمل چلا آرہا ہے، البتہ امام شافعی ؒ کے نزدیک اگر قاضی کو اتفاقاً اس کی نوبت آجائے توچنداں حرج نہیں، تاہم اسے معمول بنا لینا ان کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہے۔
ان کا استدلال یہ ہے کہ فریقین میں حائضہ عورت بھی ہو سکتی ہے۔
اس لیے ان کے مقدمات نمٹانے کے لیے مسجد میں بیٹھنا اس کے تقدس اور احترام کے منافی ہے، لیکن امام بخاری ؒ اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس عنوان سے اس کا جواز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ مذکورہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کردیا اور لعان بیوی اور خاوند کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے مسجد میں لعان اور مرد و عورت کے درمیان فیصلے کرنا دونوں کا حکم معلوم ہو گیا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس مقام پر مختصر روایت ذکر کی ہے۔
کتاب الطلاق کتاب التفسیر اور دیگر مقامات پر یہ روایت متعدد طرق سے تفصیل کے ساتھ آئے گی اور امام بخاری ؒ اس سے مختلف مسائل پر استدلال کریں گے۔
لعان یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو ملوث دیکھتا ہے یا اس قسم کا یقین اسے دوسرے ذرائع سے ہو جاتا ہے، لیکن کوئی معقول شہادت اس کے پاس نہیں تو شریعت نے خاص طور پر شوہر اور بیوی کے تعلقات کے پیش نظر اس بات کی اجازت دی ہے کہ دونوں قاضی کے سامنے اپنا دعوی پیش کریں اور ایک دوسرے کے خلاف چار چار قسمیں اٹھائیں اور پانچویں مرتبہ جھوٹا ہونے کی صورت میں اپنے آپ پر لعنت بھیجیں تو پھر ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی۔
اس کی تفصیل متعلقہ ابواب میں آئے گی۔
زیر بحث مسئلے کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کتاب الأحکام حدیث 7165 میں آئے گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
واضح رہے کہ مسجد میں جب بیوی خاوند کے درمیان لعان ہوا تو اس وقت حضرت سہل بن سعد ؓ کی عمر پندرہ سال تھی اور وہ اس بات کے عینی شاہد ہیں۔
(صحیح البخاري،الأحکام، حدیث: 7165)
1۔
مقدمات کے فیصلے کے لیے اگر دارالقضاء علیحدہ تعمیر شدہ نہیں ہے تو مسجد میں فیصلے کرنے کے لیے بیٹھنا مسلمانوں کا قدیم عمل چلا آرہا ہے، البتہ امام شافعی ؒ کے نزدیک اگر قاضی کو اتفاقاً اس کی نوبت آجائے توچنداں حرج نہیں، تاہم اسے معمول بنا لینا ان کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہے۔
ان کا استدلال یہ ہے کہ فریقین میں حائضہ عورت بھی ہو سکتی ہے۔
اس لیے ان کے مقدمات نمٹانے کے لیے مسجد میں بیٹھنا اس کے تقدس اور احترام کے منافی ہے، لیکن امام بخاری ؒ اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس عنوان سے اس کا جواز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ مذکورہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کردیا اور لعان بیوی اور خاوند کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے مسجد میں لعان اور مرد و عورت کے درمیان فیصلے کرنا دونوں کا حکم معلوم ہو گیا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس مقام پر مختصر روایت ذکر کی ہے۔
کتاب الطلاق کتاب التفسیر اور دیگر مقامات پر یہ روایت متعدد طرق سے تفصیل کے ساتھ آئے گی اور امام بخاری ؒ اس سے مختلف مسائل پر استدلال کریں گے۔
لعان یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو ملوث دیکھتا ہے یا اس قسم کا یقین اسے دوسرے ذرائع سے ہو جاتا ہے، لیکن کوئی معقول شہادت اس کے پاس نہیں تو شریعت نے خاص طور پر شوہر اور بیوی کے تعلقات کے پیش نظر اس بات کی اجازت دی ہے کہ دونوں قاضی کے سامنے اپنا دعوی پیش کریں اور ایک دوسرے کے خلاف چار چار قسمیں اٹھائیں اور پانچویں مرتبہ جھوٹا ہونے کی صورت میں اپنے آپ پر لعنت بھیجیں تو پھر ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی۔
اس کی تفصیل متعلقہ ابواب میں آئے گی۔
زیر بحث مسئلے کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کتاب الأحکام حدیث 7165 میں آئے گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
واضح رہے کہ مسجد میں جب بیوی خاوند کے درمیان لعان ہوا تو اس وقت حضرت سہل بن سعد ؓ کی عمر پندرہ سال تھی اور وہ اس بات کے عینی شاہد ہیں۔
(صحیح البخاري،الأحکام، حدیث: 7165)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 423]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2066
لعان کا بیان۔
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی (رضی اللہ عنہ) عاصم بن عدی (رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو (زنا) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎، پھر عویمر (رضی اللہ عنہ) عاصم (رضی اللہ عنہ) سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2066]
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی (رضی اللہ عنہ) عاصم بن عدی (رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو (زنا) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎، پھر عویمر (رضی اللہ عنہ) عاصم (رضی اللہ عنہ) سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2066]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مرد میں غیرت اچھی صفت ہے لیکن کی وجہ سے کسی کو قتل کردیناجائز نہیں۔
اگر کسی کو اپنی بیوی کے کردارپر قوی شک ہے تواسے طلاق دے دے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو نا پسند کیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال میں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
اور محض شک کی بنیاد پر کسی کو سزا دینا ممکن نہیں۔
(3)
اگر مرد بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو عورت سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرلے تو اسے رجم کردیا جائے، اس صورت میں مرد کو کوئی سزا نہیں ملے گی۔
اسی طرح اگر چار گواہ پیش کردیے جائیں تو یہ عورت اوراس کا مجرم ساتھی سزا کے مستحق ہوں گے۔
(4)
اگر عورت الزام کو تسلیم نہ کرے تو مرد سے کہا جائے کہ الزام لگانا جرم ہے، توبہ کرو۔
اگر وہ تسلیم کرلے کہ اس نے غلط طور پر الزام لگایا تھا تواسے الزام تراشی کی سزا (حدقذف)
کے طور پر اسّی (80)
کوڑے لگائے جائیں گے۔
اور عورت کو کوئی سزا نہیں ملے گی۔
(5)
اگر مرد اس الزام کے سچا ہونے پر اصرار کرے اور عورت تسلیم نہ کرتی ہو تو تب لعان کرایا جائے گا۔
لعان کا طریقہ اگلی حدیث میں مذکور ہے۔
(6)
بری صورت والے بچے سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسی شکل وشباہت والا تھا جس سے عورت کا جرم ثابت ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود اسے رجم نہیں کیا گیا کیونکہ لعان کے بعد نہ مرد کو قذف کی حد لگائی جاتی ہے، نہ عورت پر بدکاری کی حد جاری کی جاتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مرد میں غیرت اچھی صفت ہے لیکن کی وجہ سے کسی کو قتل کردیناجائز نہیں۔
اگر کسی کو اپنی بیوی کے کردارپر قوی شک ہے تواسے طلاق دے دے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو نا پسند کیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال میں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
اور محض شک کی بنیاد پر کسی کو سزا دینا ممکن نہیں۔
(3)
اگر مرد بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو عورت سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرلے تو اسے رجم کردیا جائے، اس صورت میں مرد کو کوئی سزا نہیں ملے گی۔
اسی طرح اگر چار گواہ پیش کردیے جائیں تو یہ عورت اوراس کا مجرم ساتھی سزا کے مستحق ہوں گے۔
(4)
اگر عورت الزام کو تسلیم نہ کرے تو مرد سے کہا جائے کہ الزام لگانا جرم ہے، توبہ کرو۔
اگر وہ تسلیم کرلے کہ اس نے غلط طور پر الزام لگایا تھا تواسے الزام تراشی کی سزا (حدقذف)
کے طور پر اسّی (80)
کوڑے لگائے جائیں گے۔
اور عورت کو کوئی سزا نہیں ملے گی۔
(5)
اگر مرد اس الزام کے سچا ہونے پر اصرار کرے اور عورت تسلیم نہ کرتی ہو تو تب لعان کرایا جائے گا۔
لعان کا طریقہ اگلی حدیث میں مذکور ہے۔
(6)
بری صورت والے بچے سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسی شکل وشباہت والا تھا جس سے عورت کا جرم ثابت ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود اسے رجم نہیں کیا گیا کیونکہ لعان کے بعد نہ مرد کو قذف کی حد لگائی جاتی ہے، نہ عورت پر بدکاری کی حد جاری کی جاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2066]
Sahih Bukhari Hadith 423 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي