🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب من دعا لطعام فى المسجد ومن أجاب فيه:
باب: جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اسے قبول کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِك، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَ أَنَسًا، قَالَ:" وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَاسٌ، فَقُمْتُ، فَقَالَ لِي: أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لِطَعَامٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: قُومُوا، فَانْطَلَقَ، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے۔ میں کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے لیے؟ (بلایا ہے) میں نے عرض کی کہ جی ہاں! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 422 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:422
حدیث حاشیہ:
اس عنوان کےدو اجزاء ہیں۔
ایک دعوت دینا دوسرا دعوت قبول کرنا کرنا یہ دونوں کام مسجد میں ہو سکتے ہیں۔
چنانچہ حضرت انس ؓ نے مسجد ہی میں آپ کو دعوت طعام پیش کی اور مدعو کا دعوت کو قبول کرنا بھی مسجد ہی میں ہوا ہے، دراصل امام بخاری ؒ ان ابواب میں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد میں ہر قسم کی گفتگو پر پابندی نہیں ہے، کیونکہ جو گفتگو مسجد ہی سے متعلق ہو اس کے جائز ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں ہے۔
اگر گفتگو مسجد سے متعلق نہیں تو بقدر ضرورت اس کا جواز ہے۔
جیسا کہ مسجد میں بیٹھے بیٹھے کسی شخص نے دعوت پیش کی اور وہیں اسے قبول کر لیا گیا تو اس کی اجازت ہے، کیونکہ یہ کلام جائز بقدر ضرورت ہے۔
(شرح تراجم بخاری)
نوٹ:
امام بخاری ؒ اس حدیث کو مکمل طور پر کتاب المناقب (الحدیث 3578)
میں بیان کریں گے لہٰذا اس سے متعلقہ دیگر مباحث بھی وہاں بیان ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 422]