🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب غزوة موتة من أرض الشأم:
باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4266
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، يَقُولُ:" لَقَدْ دُقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، وَصَبَرَتْ فِي يَدِي صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں ‘ صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4266]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار رہ گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4266]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خالد بن الوليد المخزومي، أبو سفيان، أبو سليمانصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← خالد بن الوليد المخزومي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4266 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4266
حدیث حاشیہ:
یہ حضرت خالد ؓ کی کمال بہادری دلیری اور جرا ت کی دلیل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4266]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4266
حدیث حاشیہ:

غزوہ موتہ کے معرکے نے مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت میں بہت زیادہ اضافہ کیا کیونکہ مد مقابل رومی اس وقت روئے زمین پر سب سے زیادہ طاقتور تھے۔
عرب سمجھتے تھے کہ ان سے ٹکرلینا خود کشی کے مترادف ہے، اس لیے تین ہزار کی ذرا سی نفری کا دولاکھ کے بھاری بھرکم لشکر سے ٹکراجانا عجوبہ روزگار سے کم نہ تھا۔
اس جنگ میں صرف بارہ مسلمان شہید ہوئے اور رومیوں کے مقتولین کی تعداد کا علم نہیں ہوسکا، البتہ مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں جہنم واصل ہوئے۔
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب تنہا حضرت خالد بن ولید ؓ کے ہاتھ میں نوتلواریں ٹوٹ گئیں تومقتولین اور مجروحین کی تعداد کتنی رہی ہوگی۔

حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں نے رومیوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور بہت سے مشرک قتل کیے اور حضرت خالد بن ولید ؓ نے نہ صرف مسلمانوں کو نقصان سے محفوظ رکھا بلکہ خود جنگ میں شرکت کرکےبہت سے مشرک قتل کیے اور انھیں بھاری نقصان پہنچایا۔
(فتح الباري: 646/7۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4266]

Sahih Bukhari Hadith 4266 in Urdu