🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب من صلى وقدامه تنور أو نار أو شيء مما يعبد، فأراد به الله:
باب: اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے آگے تنور، یا آگ، یا اور کوئی چیز ہو جسے مشرک پوجتے ہیں، لیکن اس نمازی کی نیت محض عبادت الہٰی ہو تو نماز درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q431
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ وَأَنَا أُصَلِّي"
‏‏‏‏ زہری نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر پہنچائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے دوزخ لائی گئی اور اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: Q431]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أُرِيتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ سورج گہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور فرمایا کہ مجھے (آج) دوزخ دکھائی گئی، اس سے زیادہ بھیانک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
431
أريت النار فلم أر منظرا كاليوم قط أفظع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 431 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 431
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے حضرت امام ؒ نے یہ نکالا ہے کہ نماز میں آگ کے انگارے سامنے ہونے سے کچھ نقصان نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 431]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:431
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس ؒ سے مروی اس حدیث کو نہایت مختصر طور پر یہاں بیان کیا ہے۔
تفصیل کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران نماز میں دفعتاً پیچھے ہٹے، پھر آگے بڑھے۔
نماز کے بعد دریافت کرنے پر بتایاکہ دوران نماز میں میرے سامنے جنت لائی گئی، میں آگے بڑھا اور اس کا خوشہ انگور توڑناچاہا۔
پھر مجھے جہنم دیکھائی گئی اس کا خوفناک منظر دیکھ کر میں پیچھے ہٹا (صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1052)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ثابت کیا کہ اگرنمازی کے سامنےآگ ہو اور نمازی کی نیت صرف اللہ کے لیے نماز پڑھنے کی ہوتو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
دراصل بخاری کوایسےاجتہادی مسائل ثابت کرنے کے لیے اشاروں سے کام لینا پڑتا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں کوئی نص صریح کتب حدیث میں موجود نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت اختیاری حالات میں آگ کوسامنے کی سمت میں لے کر نماز پڑھی ہو۔
امام بخاری ؒ اس عنوان سے امام ابن سیرین ؒ کی تردید کرنا چاہتے جن کا موقف ہے کہ تنور کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنامکروہ ہے۔
(فتح الباري: 684/1)
حافظ ابن حجر ؒ نے ایک اور انداز سے امام بخاری ؒ کے موقف کی وضاحت کی ہے۔
فرماتے ہیں کہ آپ پیش کردہ روایات سے اس فرق کو واضح کرنا چاہتے ہوں۔
اگرنمازی اور اس کے قبلے کے درمیان آگ حائل ہوجائے اور وہ اسے زائل کرنے یا اس سے ہٹ جانے کی قدرت رکھتا ہو تو ایسے حالات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اوراگر وہ اس قسم کی آگ کو برقراررکھنے پر مجبور ہواور اسے دورکرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو ایسے حالات میں نماز پڑھنا جائزہے۔
جیساکہ حضرت ابن عباس ؓ کے متعلق روایات میں ہے کہ وہ اس گرجے میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔
جس میں سامنے دیوار پر تماثیل ہوتی تھیں بلکہ ایسے حالات میں باہر بارش میں نماز پڑھنے کو اختیار فرماتے۔

بعض حضرات نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث میں صرف آگ دیکھنے کا ذکر ہے، لیکن یہ کہ آپ نے سامنے والی دیوار میں یہ منظردیکھا، حدیث میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں۔
ممکن ہے کہ دائیں یا بائیں جانب اس آگ کو دیکھا ہو، لہذا اس روایت سے عدم کراہت پر استدلال محل نظر ہے۔
لیکن اس میں اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ حدیث انس میں یہ صراحت ہے کہ بحالت نماز وہ آگ آپ کو پیش کی گئی۔
اس سے بھی زیادہ صراحت حدیث ابن عباس ؓ میں ہے۔
اس میں ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد لوگوں نےعرض کیا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے آپ کو دوران نماز میں آگے بڑھتے دیکھا گویا آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں، پھر دفعتاً ہم نے دفعتاً آپ کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے سامنے جنت اوردوزخ کو لایا گیا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ وہ آگ آپ کے سامنے تھی اور ان روایات کے پیش نظر نمازی کے قریب یا دور ہونے کا فرق بھی صحیح نہیں۔
(فتح الباري: 684/1)
واضح رہے کہ آگ کو ہی آپ کے پاس لایا گیا تھا۔
یہ احتمال بعید ہے کہ آگ اپنی جگہ پر رہی، صرف درمیان سے حجابات کو دور کردیا گیاتھا۔
واللہ أعلم۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں گیس ہیٹر لگانے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ وہ بجانب قبلہ ہی کیوں نہ ہوں، تاہم احتیاط کاتقاضا ہے کہ انھیں دائیں بائیں یا عقبی دیوار پر نصب کیاجائے تاکہ سامنے ہونے کی صورت میں نمازی کے لیے تشویش کاباعث نہ بنیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 431]

Sahih Bukhari Hadith 431 in Urdu